نوابین اودھ کے دلپسند، چاندی کے زیر پاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلمی ستارے کے کارچوبی کام والی اور سلیم شاہی جوتیوں کو بھول جایۓ۔ لکھنؤ کے اشفاق احمد چاندی کی جوتیاں اور سینڈل بنانے کے ماہر کارگر ہیں۔ نوابی دور کے سبک خوشنما اور سچے ہیروں سے مزین چاندی کی جوتیاں بنانے میں انہیں کمال حاصل ہے۔ نہ جانیں کتنی خواتین چاندی کے زیرپاء اپنے پاؤں کی زینت بناکر شہزادیاں بن چکی ہیں، تھوڑی ہی دیر کے لیے سہی۔۔۔۔ اگر انیسویں صدی کے اواخر کو پیش نظر رکھیں تو معلوم ہوگا کہ نوابین اودھ کا مرکز لکھنؤ مشاق سناروں اور کاریگروں کا مسکن تھا۔ لکھنؤ سے اچھے سنار اور کاریگر اور کہیں نہ مل سکتے تھے۔ اس زمانے کے اودھ میں امراء اور وزراء کے یہاں شادی کے مواقع پر چاندی کی خاص جوتیوں کا چلن شروع ہوا۔ اشفاق احمد پچھلے تیس برسوں سے اس پیشے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ انکے بزرگ بھی سفاری کا کام کرتے تھے۔ اشفاق احمد نے بتایا کہ ’میں نے آنکھ کھولی تو یہی کام اپنے ارد گرد دیکھا اور ثانوی تعلیم کے بعد میں بھی اس میں لگ گیا‘۔
چاندی کی جوتی کا ڈھانچہ تیار کرنا سب سے اہم مرحلہ ہے۔ چاندی کی شیٹ پر نقاشی کے لیئے اسے گرم لاکھ پر کافی پیٹا جاتا ہے اور اس طرح مطلوب ڈیزائن تیار ہوتا ہے۔ اس کے بعد منقش چاندی کی شیٹ کاٹ کر لکڑی کے فریم پر چڑھائی جاتی ہے اور جب جوتی کا فریم تیار ہوجاتا ہے تو اس پر نگینے یا ہیرے لگا کر چمک دمک اور آب و تاب پیدا کی جاتی ہے۔ اشفاق نے بتایا کہ جوتی بنانے میں پانچ دن اور بغیر ہیل والی چپل بنانے میں تین روز لگتے ہیں۔ مختلف طرح کی جوتی اور چپل بنانے میں پاؤ بھر سے آٹھ سوگرام تک چاندی استعمال ہوتی ہے۔ اشفاق کا کہنا تھا کہ عام طور پر دو ہی ڈیزائن کی جوتیاں بنتی تھیں لیکن اب انہوں نے جو نیا ڈیزائن تیار کیا ہے وہ زیادہ مقبول ہورہا ہے۔
اشفاق احمد اپنے گھر پر ہی کام کرتے ہیں لیکن زیوارات کے دکان داروں کے آرڈر پر یہ وہ جوتیاں فراہم کرتے رہتے ہیں۔ انہیں کاریگری کی ہی قیمت ملتی ہے اور وہ اوسطاً آٹھ ہزار روپیۓ لیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اشفاق نے بتایا کہ لکھنؤ ہی نہیں آس پاس کےسب قصبات اور کولکتہ سے بھی جوتی بنانے کے انکے پاس آڑدر آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’چاندی کی جوتیاں بنانے والے پہلے زیادہ کاریگر تھے۔ اب ہم اس چراغ کو جلا رہے ہیں ۔‘ ایک سرکاری ادارے للت کلا اکیڈمی نے اشفاق کے دیدہ زیب زیر پاء کو اپنی نمائش میں رکھنے میں دلچسپی دکھائی ہے اور اس سےاشفاق بہت خوش ہیں۔ |
اسی بارے میں بھارتی تاجر کا عالمی ریکارڈ26 November, 2005 | انڈیا لکھنؤ میں پاکستانی وفد کی پذیرائی19 November, 2005 | انڈیا پاکستانی اشیاء نے دکن کا دل جیت لیا11 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||