لکھنؤ میں پاکستانی وفد کی پذیرائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں نزاکت، نفاست اور مہمانوازي کے لیےدنیا بھر میں مشہور لکھنؤ شہر نے پاکستان سے آنے والے مہمانوں کی میزبانی کی۔ ’پٹا‘ یعنی انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے ساٹھ برس پورے ہونے کے موقع پر یہ وفد نوابوں کے شہر لکھنو آیا ہے۔ یہاں پہنچنے کے بعد وفد کے سربراہ 22 سالہ صحافی حامد اختر خود کو یہ کہنے سے روک نہ سکے کہ ’لکھنؤ ایک شہر نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب ہے‘۔ اس وفد میں پاکستان کے صحافی، شاعر اور ادیب شامل ہیں۔ مسٹر اختر ہند و پاک بٹوارے کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستان آئے ہیں۔ اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’بٹوارے کا درد آج بھی ہمارے زمانے کے لوگوں کے دلوں میں تازہ ہے‘۔ انکا کہنا ہے تھا کہ ’اس زمین پر پیدا ہونے کے بعد اپنی جڑيں یہیں چھوڑ کر ہم لوگ میلوں دور جا کر بس گئے ہیں‘۔ مسٹر اختر کے مطابق ان کی عمر کے ہر شخص کے دل میں ایک مرتبہ اپنی سر زمین آنے کی خواہش ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’ہر بار میں یہاں آ کر اپنے ماضی میں لوٹ سا جاتا ہوں سب پرانے منظر آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگتے ہیں‘۔ سماجی کارکن اے آر عارف کے مطابق اصل میں دونوں ملکوں کے سیاست داں اور سرکاری اہلکار ہی نہیں چاہتے کہ کشیدگي کا ماحول دور ہو۔ ان کا کہنا تھا ’پہلے تو کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک کا علاقہ ہمارا تھا لیکن اب ہماری حدیں کچھ سمٹ سی گئي ہیں‘۔ عارف کی پیدائش اتر پردیش ریاست کے بنارس شہر میں ہوئی تھی۔ وہ 1968 میں الہ آباد شہر سے پاکستان چلے گئے تھے۔ مشہور ادیب و صحافی زاہدہ حنا کا کہنا تھا کہ اگر دونوں ملک دفاعی بجٹ میں کمی کريں تو نہ جانے کتنے بچوں کے زندگیاں سنور سکتی ہیں۔ حنا کا کہنا تھا ’ایک ٹینک کی قیمت تقریبا 40 لاکھ پاؤنڈ ہوتی ہے کیا یہ روپے ہم علاج اور تعلیم پر خرچ نہیں کر سکتے‘۔ وفد میں ان لوگوں کی بھی کمی نہيں تھی جن کا تعلق ہندوستان سے تو نہیں تھا لیکن وہ سب ہندوستان کی تہذیب، یہاں کی فلموں، لباس اور موسیقی سے بے حد متاثر تھے۔ لاہور کے ایف ایم ریڈیو کی فنکارہ حنا امام ہندوستان آ کر بے حد خوش تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں ہندوستانی موسیقی اور فلمی اداکاروں کو جو مقبولیت حاصل ہے اس کا اندازہ شائد ان اداکاروں کو بھی نہیں ہوگا‘۔ مشہور فلم اداکار اور ’اپٹا‘ کے قومی صدر اے کے ہنگل کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئي تھی۔ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی مہمانوں سے کہا کہ ’آپ لوگوں سے ملنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے سامنے پورا پاکستان آگیا ہو‘۔ | اسی بارے میں پاکستانی وفد دلّی روانہ02 August, 2004 | پاکستان پاکستانی وفد کی بھارت میں مصروفیات09.05.2003 | صفحۂ اول پاکستانی وفد کی کشمیر آمد 24 July, 2005 | انڈیا فلم بھارتی: عکس بندی پاکستان میں19 October, 2003 | فن فنکار ’تقسیم مذہبی بنیاد پر نہیں‘17 November, 2004 | انڈیا لاہور کی فلم، تقسیم سے پہلے01 July, 2005 | فن فنکار بٹوارے پر فلمیں کیوں نہیں بنیں؟ 10 June, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||