پاکستانی وفد کی کشمیر آمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریائے چناب پر متنازعہ بگلیہار ڈیم کے معائنہ کے لیے ایک پانچ رکنی پاکستانی وفد بھارت کے زیرانتظام کشمیر پہنچا ہے۔ تین روز کے اپنے دورے میں یہ وفد ڈیم کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لےگا اور پھر اپنی رپورٹ پاکستانی حکومت کو پیش کرےگا۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی حکومت نے پروجیکٹ پر کام کرنے والےافسران کو ہدایات دی ہیں کہ وہ پاکستان کے ماہرین کو بگلیہار ڈیم کے ہر شعبے کی مکمل معلومات فراہم کریں۔ اس موقع پر پرجیکٹ کے چیف انجینئر بی ایل گارو نے کہا کہ اس دورے کا اہم مقصد یہ ہے کہ پاکستان اپنے شکوک و شبہات دور کرسکے۔ گارو نے کہا کہ ’ہم معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہے ہیں۔ ہم اس بات سے خوش ہیں کہ پاکستانی وفد اپنے دورے پر خود ڈیم کی تعمیر دیکھ سکےگا اور شکوک و شبہات دورکرسکےگا‘ پاکستانی وفد پیر سے ڈیم کے معائنے کا آغاز کرے گا۔ وفد کی قیادت انڈس واٹرٹریٹی کے کمشنر سید جماعت علی کر رہے ہیں۔ لیکن بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید پاکستانی وفد کا یہ دورہ زیادہ مفید ثابت نہ ہو۔ ڈیم کے ایک انجینئر کا کہنا تھا کہ چونکہ دریائے چناب میں سیلاب کے سبب ڈیم کو کافی نقصان پہنچا ہےاور پانی اب بھی ڈیم کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔ اس لیے پاکستانی ماہرین کو پوری طرح سے اسکی تفتیش کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی وفد ریاست اتر پردیش میں ’رورکی‘ یونیورسٹی وفد ڈیم کےماڈل اور اور اسکی جگہ کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد پاکستانی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرےگا۔ اس پروجیکٹ پرفریقین کے درمیان اختلافات ہیں اور ثالثی کےلیے ورلڈ بینک سے مدد لی جارہی ہے۔ پاکستانی حکومت اس وفدکی رپورٹ کی بنیاد پر ورلڈ بینک کے سامنے اپنے مؤقف پیش کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||