BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 May, 2006, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سبھاش بوس کی موت کیسے ہوئی؟

سبھاش چندر بوس
ایک عمر رسیدہ شخص نے دعویٰ کیاہے کہ نیتا جی کی موت کسی طیارے کے حادثے میں نہیں بلکہ فیض آباد ضلع میں اور فطری انداز میں ہوئی۔
تحریک آزادی کے جنگجو سبھاش چندر بوس کی گمشدگی کی وجوہات کا پتہ لگانے والے مکھرجی کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ نیتا جی کی موت فضائی حادثے میں نہیں ہوئی تھی۔


حکومت نے تو اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے لیکن نیتا جی کی موت کا راز اب تک راز بنا ہوا ہے اور اب اس معاملے میں مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

شمالی ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک عمر رسیدہ شخص نے دعویٰ کیاہے کہ نیتا جی کی موت کسی طیارے کے حادثے میں نہیں بلکہ فیض آباد ضلع میں اور فطری انداز میں ہوئی۔

نظام الدین، جن کی عمر اب ایک سو دو سال ہو چکی ہے، کہتے ہیں کہ وہ نیتا جی کے ڈرائیور اور باڈی گارڈ رہ چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا ہے 1945میں تائیوان میں جس طیارہ حادثہ میں سبھاش چندر بوس کی موت کی بات کہی جاتی ہے وہ غلط ہے کیونکہ آخری وقت میں انہوں نے اس طیارہ میں سفر کر نے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔

سبھاش بوس کے ڈرائیور کا دعویٰ
 1945میں تائیوان میں جس طیارہ حادثہ میں سبھاش چندر بوس کی موت کی بات کہی جاتی ہے وہ غلط ہے کیونکہ آخری وقت میں انہوں نے اس طیارہ میں سفر کر نے کا ارادہ ترک کر دیا تھا

اعظم گڑھ ضلع کے بلریا گنج قصبہ میں اسلام پورہ نام کے محلے میں رہنے والے نظام الدین کا دعویٰ ہے کہ 18 اگست 1945کے طیارہ حادثہ کے بعد آزاد ہند فوج کے وائرلیس پر نیتا جی کا پیغام آیا تھا کہ میں زندہ ہوں اور ہندوستان واپس آ‎ؤں گا۔ نظام الدین نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ’پیغام سننے اور ان کی آواز پہچاننے میں کوئی شعبہ نہیں‘۔

نظام الدین نے مزید بتایا کہ تائیوان میں جس طیارہ کے حادثہ سے دو چار ہونے کی بات کی جاتی ہے اس میں آزاد ہند فوج کے کچھ فوجی ضرور سوار تھے۔

نظام الدین کاکہنا ہے کہ 1971 میں بنارس میں ان کی ملاقات نیتا جی کے ایک بہت ہی قریبی ساتھی سے ہوئی تھی جس نے بتایا کہ ’بابو صاحب‘ بھیس بدل کر فیض آباد میں رہ رہے ہیں۔

نظام الدین کے مطابق اس انکشاف پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ حکام کو دھوکہ دینے کے لیے نیتا جی بھیس بدلنے کے ماہر تھے۔

اپنے بارے میں نظام الدین نے بتایا کہ 1942 میں جب ان عمر 20 سال تھی، وہ اپنے گا‎ؤں ڈھکوا (مبارک پور) سے بھاگ کر کلکتہ سے سنگا پور گئے تھےاور پھر

نظام الدین کون ہیں؟
میں جب ان عمر 20 سال تھی، وہ اپنے گا‎ؤں ڈھکوا (مبارک پور) سے بھاگ کر کلکتہ سے سنگا پور گئے تھےاور پھر وہاں انہیں آزاد ہند فوج میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے برما، جاپان اور تھائی لینڈ میں نیتا جی کے ڈرائیور کے طور پر کام کیا تھا
وہاں انہیں آزاد ہند فوج میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے برما، جاپان اور تھائی لینڈ میں نیتا جی کے ڈرائیور کے طور پر کام کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ سبھاش چندر بوس کی لاش نہ ملنے کے سبب ان کی موت کے بارے میں کئی طرح کی باتیں سامنے آچکی ہیں۔

مکھرجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت ہو چکی ہے لیکن کس طرح ہوئی اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں مل سکا ہے۔

شبھاش چندر بوسشیام بینیگل کا بوس
شبھاش چندر بوس بھارتی سینسر کی زد میں ہیں
نیتا جی سبھاش چندر بوسنیتاجی کہاں گئے؟
’چندر بوس حادثے میں نہیں مرے‘
تاج پریشان تھا
برطانیہ نے چندر بوس کے قتل کا حکم دیا: مؤرخ
 سبھاش چندر بوسفراموش ہیرو کی یاد
سبھاش چندر بوس پر فلم نمائش کے لیے تیار
اسی بارے میں
’نیتاجی۔۔‘ نئی فلم
06.08.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد