سبھاش بوس کی موت کیسے ہوئی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک آزادی کے جنگجو سبھاش چندر بوس کی گمشدگی کی وجوہات کا پتہ لگانے والے مکھرجی کمیشن نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ نیتا جی کی موت فضائی حادثے میں نہیں ہوئی تھی۔ حکومت نے تو اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے لیکن نیتا جی کی موت کا راز اب تک راز بنا ہوا ہے اور اب اس معاملے میں مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ شمالی ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے ایک عمر رسیدہ شخص نے دعویٰ کیاہے کہ نیتا جی کی موت کسی طیارے کے حادثے میں نہیں بلکہ فیض آباد ضلع میں اور فطری انداز میں ہوئی۔ نظام الدین، جن کی عمر اب ایک سو دو سال ہو چکی ہے، کہتے ہیں کہ وہ نیتا جی کے ڈرائیور اور باڈی گارڈ رہ چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا ہے 1945میں تائیوان میں جس طیارہ حادثہ میں سبھاش چندر بوس کی موت کی بات کہی جاتی ہے وہ غلط ہے کیونکہ آخری وقت میں انہوں نے اس طیارہ میں سفر کر نے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
اعظم گڑھ ضلع کے بلریا گنج قصبہ میں اسلام پورہ نام کے محلے میں رہنے والے نظام الدین کا دعویٰ ہے کہ 18 اگست 1945کے طیارہ حادثہ کے بعد آزاد ہند فوج کے وائرلیس پر نیتا جی کا پیغام آیا تھا کہ میں زندہ ہوں اور ہندوستان واپس آؤں گا۔ نظام الدین نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ’پیغام سننے اور ان کی آواز پہچاننے میں کوئی شعبہ نہیں‘۔ نظام الدین نے مزید بتایا کہ تائیوان میں جس طیارہ کے حادثہ سے دو چار ہونے کی بات کی جاتی ہے اس میں آزاد ہند فوج کے کچھ فوجی ضرور سوار تھے۔ نظام الدین کاکہنا ہے کہ 1971 میں بنارس میں ان کی ملاقات نیتا جی کے ایک بہت ہی قریبی ساتھی سے ہوئی تھی جس نے بتایا کہ ’بابو صاحب‘ بھیس بدل کر فیض آباد میں رہ رہے ہیں۔ نظام الدین کے مطابق اس انکشاف پر انہیں کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ حکام کو دھوکہ دینے کے لیے نیتا جی بھیس بدلنے کے ماہر تھے۔ اپنے بارے میں نظام الدین نے بتایا کہ 1942 میں جب ان عمر 20 سال تھی، وہ اپنے گاؤں ڈھکوا (مبارک پور) سے بھاگ کر کلکتہ سے سنگا پور گئے تھےاور پھر
قابل ذکر ہے کہ سبھاش چندر بوس کی لاش نہ ملنے کے سبب ان کی موت کے بارے میں کئی طرح کی باتیں سامنے آچکی ہیں۔ مکھرجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت ہو چکی ہے لیکن کس طرح ہوئی اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ |
اسی بارے میں شبھاش بوس بھارتی سینسر کی زد میں24 October, 2004 | فن فنکار برطانیہ نے بوس کے قتل کا حکم دیا: مؤرخ15 August, 2005 | انڈیا ’نیتاجی۔۔‘ نئی فلم 06.08.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||