برطانیہ نے بوس کے قتل کا حکم دیا: مؤرخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک آئرش مورخ کے مطابق برطانیہ نے سن انیس سو اکتالیس میں ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی کے رہنما سبھاش چندر بوس کے قتل کا حکم دیا تھا۔ آئرش تاریخ دان یونان اوہالپِن کے مطابق سبھاش چندر بوس کے قتل کا حکم اس وقت دیا گیا تھا جب انہوں نے دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی مخالف طاقتوں سے عملی مدد طلب کی تھی۔ ڈبلن کے ٹرنٹی کالج کے استاد، یونان اوہالپِن، برطانوی انٹیلی جنس پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی ایجنٹوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مسٹر بوس کے مشرق وسطیٰ کے راستے جرمنی پہنچنے سے پہلے انہیں قتل کر دیں۔ سبھاش چندر بوس سن انیس سو پینتالیس میں ہونے والے ایک مبینہ ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ کلکتہ میں دیئے گئے ایک لیکچر میں مسٹر اوہالپِن نے حال ہی میں جاری کی گئی ایک خفیہ دستاویز کا حوالہ دیا جس میں سپیشل آپریشنز کے ایک اہلکار کو سبھاش چند بوس کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
’ابتدائی طور ان کا خیال تھا کہ وہ مشرق بعید چلے گئے ہیں لیکن جلد ہی انہیں اطالوی سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والے معلومات سے پتا چلا کہ وہ کابل میں ہیں اور مشرق وسطیٰ کے راستے جرمنی پہنچنا چاہتے ہیں۔‘ ’اس پر لندن میں قائم برطانوی خفیہ ادارے کے صدر دفتر سے ترکی میں موجود دو ایجنٹوں کو حکم دیا گیا کہ سبھاش چندر بوس کو جرمنی پہنچنے سے پہلے قتل کر دیا جائے۔‘ مسٹر اوہالپِن کے مطابق ترکی میں تعینات برطانوی خفیہ ایجنٹ اس لیے سبھاش چندر بوس کو گرفتار کرکے قتل کرنے میں اس لیے ناکام رہے کیونکہ مسٹر وسطی ایشیاء اور سویت یونین سے ہوتے ہوئے جرمنی چلے گئے تھے۔ ’ایجنٹوں نے جب بھی ہیڈکوارٹر سے رابطہ کیا انہیں یہی کہا گیا کہ مسٹر بوس کو قتل کرنے کے احکام ابھی تک موجود ہیں اور یہ کہ وہ جب بھی ملیں انہیں قتل کر دیا جائے۔‘ مسٹراوہالپِن نے سبھاش چندر بوس کے قتل کے بارے میں دیئے گئے احکامات کو غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ برطانوی مسٹر بوس کو بہت سنجیدگی سے لے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سبھاش چند بوس پر کام کرنے والے مؤرخین کی رائے میں انہیں قتل کرنے کے حکم کی برطانوی دور میں کوئی مثال نہیں ملتی جس یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بوس کی کارروائیوں نے تاج کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا تھا کہ حکام ان کے قتل کا حکم دینے پر مجبور ہو گئے۔ سبھاش چندر بوس بیس سال تک انڈین نیشنل کانگریس میں رہے اور انہیں اس کا صدر بھی منتخب کیا گیا۔ لیکن وہ مہاتما گاندھی کی طرف سے ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں عدم تشدد کا راستہ اپنانے کے خلاف احتجاج کے طور پر مستعفی ہو گئے تھے۔ جرمنی سے سبھاش چندر بوس نوے دن تک آب دوز میں سفر کرنے کے بعد مشرق بعید پہنچے جہاں انہوں نے جاپان کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے ہندوستانی سپاہیوں پر مشتمل انڈین نیشنل آرمی قائم کی۔ بوس کی فوج نے سن انیس سو چوالیس، پینتالیس میں ہونے والے امفال کوہیما لڑائی میں جاپانیوں کے شانہ بشانہ حصہ لیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||