BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 May, 2005, 18:10 GMT 23:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فارگوٹن ہیرو، نمائش کیلیے تیار

 سبھاش چندرا بوس
حریت پسند سبھاش چندرا بوس کی زندگی پر بنی ہدایتکار شیام بینگل کی فلم نیتا جی سبھاش چندرا بوس ’فارگوٹن ہیرو‘ ریلیز کے لیے تیار ہے۔

مہاتما گاندھی سے مختلف نظریات کے لیے مشہور بوس ہندوستانی آزادی کی تحریک میں سب سے زیادہ پراسرار کردار رہے ہیں اور شاید سب سے زیادہ متنازعہ بھی۔

انہی کی طرح ان پر بنی فلم بھی تنازعوں کا شکار ہو گئی ہے۔ انکی ریاست مغربی بنگال میں ان کے پیروکار اور ان پر تحقیق کرنے والے لوگوں کو فلم کے کئی پہلوؤں پر اعتراض ہے۔

تین سال، بائیس کروڑ روپے کی بجٹ اور کئی ملکوں میں شوٹنگ کے بعد تیار ہونے والی یہ فلم ریلیز سے پہلے تنازعوں میں گھر گئی ہے۔

اس فلم کی کہانی ہندوستان پر راج کرنے والے انگریزوں سے لڑنے کے لیے پہلی انڈین نیشنل آرمی کو بنانے والے سبھاش چندر بوس اور آزادی کی جنگ میں ان کے کردار پرمبنی ہے۔

فلم کے ہدایتکار شیام بنگالی کہتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی ان پر فلم بنانا چاہتے تھے لیکن انہیں موقع نہیں ملا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہیں کہ یہ فلم اس لیے اہم ہے کہ کیونکہ نیتا جی کو تاریخ میں وہ جگہ نہیں ملی جو ان کا حق تھا۔

وہ اکیلے ہی ایسی ڈگر پر چلے تھے جو بہت مشکل تھی۔ جب ہمیں آزادی ملی تو نیتا جی ہندوستان میں نہیں تھے نہ بعد میں کہیں دکھائی دیئے۔ ایسی صورت میں وہ لوگوں کی نظروں سے اوچھل ہو گئے اور تاریخ میں اپنے اصل حق سے محروم رہ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید یہ فلم اس غلطی کو سدھار سکے۔

سبھاش چندر بوس
سبھاش چندر بوس نے ہٹلر کے تعاون سے ہند آزادی کے لیے ایک فوج بنائی جو قید بنائے جانے والے فوجیوں پع مشتمل تھی

فلم میں نیتا جی کا کردار نبھایا ہے اداکار سچن کہیدار نے جو اس سے پہلے استتوا میں اپنے کام کے لیے سراہے گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’ یہ میرے لیے بڑا اچھا تجربہ رہا ہے کیونکہ یہ میرے کیرئیر کے سب سے اہم کردار ہے اور میں نے بہت محنت کر کے کام کیا۔ آج تک جتنے کام میں نے کیے شاید سارے فرضی کردار تھے۔ یہ پہلی بار ہے کہ اصلی ہیرو اور وہ بھی اتنے بڑے قومی ہیرو کا کردار کرنے کا موقع ملا تو میں نے اپنے طرف سے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب فلم لوگوں کے سامنے ہے‘۔

لیکن سبھاش چندرا بوس کے پیروکار، آل انڈیا فاروڈ بلاک کے ممبران اس بات سے ناراض ہیں کہ فلم میں بوس کو شادی شدہ دیکھایا گیا ہے ۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ نیتا جی نے کبھی شادی کی ہی نہیں۔

انہیں فلم کے نام پر بھی اعتراض ہے۔لیکن بنگالی کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں شائع ہو چکی ہیں اور اس لیے شادی کا پہلو تو ثبوتوں پر واقع ہے۔

انکی بیوی ایملی کی چٹھیاں بھی شائع ہو چکی ہیں اور نیتا جی کے بیٹے بھی ہیں جو زندہ ہیں اور جرمنی میں رہتے ہیں۔’ یہ لوگ کون ہے جن کو فلم پر اعتراض ہے اور یہ کیا کر رہے ہیں، میں جب تک یہ جان نہیں لیتا میں اس پر تبصرہ نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے، مجھے کسی نے کوئی خط نہیں لکھا ہے‘۔

تنازعوں کا علاوہ فلم کو لے کر لوگوں میں کافی تجسس ہے اور اس کی ایک وجہ ہے موسیقی۔ موسیقار اے آر رحمان نے ہمیشہ کی طرح اس میں بھی اپنی بہترین موسیقی سے جان ڈال دی ہے۔ انہوں نے فلم میں ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ ہندی سینما کے اب تک سب سے اعلی موسیقاروں میں سے ہیں جو ہر بار کچھ نیا پہلے سے بھی بہتر دیتے ہیں۔

سبھاش چندر
سبھاش چندر ہندوستان سے فرار ہو کر ہٹلر سے جا ملے تھے اور انہوں نے ان قیدیوں کو ہند آزادی فوج میں شامل ہونے پر اکسایا تھا جنہیں اتحادی فوجیوں کے ساتھ دیتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا

اس فلم میں بھی ہر رنگ ، ہر جذبے کو انہوں نے زبان دی ہے۔ گیت آزادی میں حب الوطنی کا رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے تو اکیلے چلو، اکیلے ہی چلو میں مغربی بنگالی کی ربندرہ سنگیت کی چاشنی کو انہوں نے بڑی خوبصورتی سے ایک نیا لباس پہنایا ہے اور گیت ذکر میں صوفی سنگیت کا اثر صاف جھلکتا ہے۔

لیکن بوس کے کردار میں ڈھلنا اتنا آسان نہیں تھا۔ خیدار نے ان پر بنی دستاویزی فلمیں دیکھیں، انکی تقریریں سنی، ان کے تصورات، چال ڈھال، سب پہلوؤں غور کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کردار کو پچھلے دو کہتے ہیں کہ اس کردار پچھلے دو سالوں تک اتنے قریب سے جاننے کے بعد وہ اپنے آپ کو ایک نیا انسان محسوس کرتے ہیں۔ اس سے پہلے عام آدمی کی طرح میں بھی اپنے دیش کو ٹیکن فار گرانٹڈ لیتا ہے۔

ایسا کرنے میں ہم بھول جاتے ہیں کہ آزادی کی جدوجہد میں کتنے لوگوں نے اپنی جان دی اور کتنے بڑے کام کیے ہیں۔ آج اس بنی بنائی آزادی کا ہم فائدہ آٹھاتے ہیں اور دیش کے لیے ہمارا پیار کم ہو گیا ہے۔

تو جس طرح سے میں دو سال بعد اپنے آپ کو الگ خیالات کو مانتا ہوں میرا یہ ہی خیال ہے کہ یہ فلم بہت سارے لوگوں کی دنیا بدل دے گی۔

بوس کی زندگی سے جدا سب سے بڑے راز کی وجہ سے وہ نوجوانوں کے لیے ہمیشہ رہی ہے۔ ابتک اس بات پر تنازعہ ہے کہ وہ کہاں غائب ہو گئے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ 1945 میں تائیوان میں ایک طیارے کے تباہ ہونے میں مارے گئے تھے لیکن ان کے پیروکار اس بات کی مخالفت کر تے ہیں۔

اس بات کو جاننے کے لیے سپریم کورٹ کا ایک تحقیقاتی کمیشن بھی بنایا تھا۔

بھلے یہ فلم اس قومی ہیرو کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو عام لوگوں کے سامنے رکھے یا نہیں لیکن اگر آپ ان کے غائب ہونے کا راز جان چاہتے ہیں تو شاید آپ کو ایک اور فلم کا انتظار کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد