’نیتا جی حادثے میں ہلاک نہیں ہوئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیتا جی سبھاش چندر بوس کے غائب ہونے کی وجوہات کا پتہ لگانے والے مکھرجی کمیشن نےچندر بوس اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ نیتا جی کی موت فضائی حادثے میں نہیں ہوئی تھی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت ہوگئی ہے لیکن کس طرح موت ہوئی اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا ہے۔ تاہم حکومت نے کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ اب تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ آخری بار انیس سو پینتالیس میں نیتا جی کو بینکاک سے تائیوان کے لیئے ہوائی سفر پر جاتے دیکھا گیا تھا اور پھر انکے اچانک غائب ہونے کا پتہ چلا تھا۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ آزادی کے لئیے لڑنے والے نیتا جی کی موت سنہ انیس سو پینتالیس میں ایک ہوائی حادثے میں ہوگئی تھی۔ اس معاملے کی تحقیق کے لیئے واجپئی کی قیادت میں این ڈی حکومت نے سنہ انیس نناوے میں مکھرجی کمیشن کو تشکیل دیا تھا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ گزشتہ برس نومبر میں حکومت کو پیش کر دی تھی اور حکومت نے اب پارلیمنٹ میں اپنی ایکشن ٹیکِن رپورٹ (اے ٹی آر) پیش کی ہے۔ اے ٹی آر پیش کرتے وقت وزیر داخلہ ایس رگوپتی نے کہا کہ حکومت نے مکھرجی کمیشن کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور حکومت ’رپورٹ میں اس بات سے متفق نہیں ہے کہ نیتا جی کی موت ہوائی حادثے میں نہیں ہوئی تھی اور رینکوجی مندر میں موجود ارتھیاں نیتا جی کی نہیں ہیں۔‘ مکھرجی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’جاپان کے رینکوجی مندر میں جو ارتھیاں ( باقیات) ہیں وہ نیتا جی کی نہیں ہیں اور اس بارے میں چونکہ پختہ ثبوت نہیں ہیں اس لیے کچھ بھی مثبت نہیں کہا جا سکتا ہے۔‘ رپورٹ میں تجویو دی گئی ہے کہ اس دعوے کی بھی تفتیش ہونی چاہیۓ کہ فضائی حادثے کو ایک بہانے کے طور استعمال کیا گیا تھا تاکہ نیتا جی محفوظ روس پہنچ سکیں۔ نیتا جی کے بارے میں اس طرح کی بھی خبریں تھیں کہ بھگوان جی گم نامی بابا نیتا جی سبھاش چندر بوس ہی تھے جنکی موت سنہ انیس سو پچاسی میں فیض آباد میں ہوئی تھی۔ لیکن کمیشن نے کہا ہے کہ اس طرح کے سوالوں کے جواب کی کوئي ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے بارے میں بھی کوئی پُختہ ثبوت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں برطانیہ نے بوس کے قتل کا حکم دیا: مؤرخ15 August, 2005 | انڈیا فارگوٹن ہیرو، نمائش کیلیے تیار 05 May, 2005 | انڈیا شبھاش بوس بھارتی سینسر کی زد میں24 October, 2004 | فن فنکار بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||