BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 September, 2006, 11:49 GMT 16:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے، دو اور ملزم قصور وار

1993 کے دھماکے
1993 کے بم دھماکوں سے پوری ممبئی دہل گئی تھی
ممبئی کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے انیس سو ترانوے بم دھماکوں سے قبل آر ڈی ایکس اور اسلحہ کی سمگلنگ کے دو ملزمان کو قصور وار قرار دیا ہے جس کے بعد سرکاری وکیل نے کہا کہ ان دھماکوں میں داؤد ابراہیم کے ملوث ہونا پہلی بار عدالت میں ثابت ہو گیا۔

جسٹس پرمود دتاتریہ کوڈے نےجمعہ کے روز ملزم نمبر چودہ داؤد عرف ٹکلیا اور ملزم نمبر سترہ شریف پرکار کو مجرم قرار دیا ہے۔

بم دھماکہ کی تفتیش کرنے والی ایجنسی سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورو نے مجرم داؤد پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے انیس جنوری انیس سو ترانوے کو دبئی میں ہونے والی میٹنگ میں حصہ لیا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دو فروری سے سات فروری کے درمیان کوکن (شیکھاڑی) کے ساحل سمندر پر آر ڈی ایکس، ہینڈ گرینیڈ ، اے کے 56 رائفلز اور خود کار پستول سمیت اسلحہ کا ذخیرہ اتارنے میں مدد کی تھی۔

جج نے 83 سالہ مجرم داؤد فنسے کو ٹاڈا کی دفعات 3 (3) اور 6 کے تحت قصور وار قرار دیا ہے۔ بم دھماکہ کی سازش کا الزام بھی داؤد فنسے پر ثابت ہوا ہے۔

مجرم شریف پرکار پر الزام تھا کہ انہوں نے کسٹم افسران سے راوبط پیدا کیا اور انہیں یہ ذخیرہ اتارنے کے لیئے مبینہ طور رشوت بھی دی تھی۔

شریف پر سی بی آئی کے مطابق سندھیری میں اسلحہ کی تربیت دینے اور ٹائیگر میمن کو مدد کرنے کے الزمات تھے۔ عدالت نے مجرم شریف کو اسلحہ لینڈنگ کا مجرم قرار دیا لیکن عدالت نے کہا کہ ان پر کسٹم افسران کو رشوت دینے کا جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ ان پر دبئی میٹنگ کا بھی الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔

سرکاری وکیل اجول نکم نے عدالت کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ نے یہ ثابت کر دیا کہ ان بم دھماکوں میں مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم ملوث تھے کیونکہ بم دھماکوں کے لیئے دبئی میں بنائی گئی سازش عدالت نے ثابت کر دی ہے۔

بم دھماکوں کا فیصلہ بارہ ستمبر سے آنا شروع ہوا ہے۔ اب تک عدالت نے گیارہ ملزمین کو قصور وار قرار دیا ہے لیکن میمن خاندان کے تین ملزمین کو ناکافی ثبوت کی بناء پر رہا کر دیا گیا ہے۔ پیر کے روز عدالت ماہم میں ہینڈ گرینیڈ پھینکنے والے ملزمان کی قسمت کا فیصلہ سنائے گی۔

اسی بارے میں
ہمیں انصاف کب ملے گا ؟
13 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد