کشمیر کی ’ نیلامی‘ پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میںغیرریاستی باشندوں کو زمین پٹے پر دینے کے سرکاری فیصلہ پرعوامی اور سیاسی حلقوں میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔ حکومت نےپچھلےماہ عالمی شہرت یافتہ پہاڑی مقام گلمرگ میں جدید طرز کے ہوٹل اور ’ہٹس‘ یعنی سیاحوں کی قیام گاہیں تعمیر کروانے کی غرض سے پانچ سو کنال رقبہ اراضی پر بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت کافیصلہ کیا۔ اس کے خلاف ہندنواز نیشنل کانفرنس اور علیحدگی پسند جماعتوں نےکافی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سیاحت کے وزیر محمد دلاور میر نے اس سلسلے میں واضح کیا ہے کہ’ زمین دراصل مقامی لوگوں کو دی جائیگی اور تعمیر کے لئے درکار بھاری انوسٹمنٹ، بیرونی سرمایہ کاروں کی اس پروجکٹ میں شراکت سے ہی ممکن ہوسکے گی‘۔ لیکن اکثر سیاسی و سماجی حلقے حکومت کے اس استدلال سے مطمئن نہیں۔ کشمیر میں سیمنٹ سازی کے سب سے بڑے کارخانہ ’سیفکو‘ کے مالک الطاف احمد نے بی بی سی کو بتایاکہ بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں پڑتی اگر حکومت نے مقامی صنعت کاروں کو پھلنے پھولنے کے بہتر مواقع دیے ہوتے۔ الطاف احمد کا کہنا ہے کہ سیاحتی شعبہ میں بیرونی سرمایہ کاری اچھی بات ہے لیکن جب آپ غریب کشمیریوں کے ساتھ ہندوستان کے بڑے سرمایہ کاروں کوزمین کا شریک بنائیں گے تو بڑی اور چھوٹی مچھلی کا قدرتی اصول تو نہیں بدلے گا۔ چھوٹی مچھلی بہرحال بڑی مچھلی کی غذا بنے گی اور یہی خدشہ لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ ان کے اندیشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے پچھلے دنوں اپنی تقریروں میں اس اقدام کو جموں کشمیر کی آئینی حیثیت کے لئے خطرہ بتایاتھا جبکہ علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی اس صورتحال کو کشمیریوں کے خلاف ایک ’ کارپوریٹ ہتھیار‘ سمجھتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے متعدد بار وضاحتوں کے باوجود پچھلے دو ہفتوں سے گلمرگ اور ٹنگمرگ میں مقامی باشندے سرکار کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ قصبہ میں دو دن تک ہڑتال بھی رہی۔ مسڑ گیلانی نے زمین غیرریاستی باشندوں کو ٹرانسفر کرنے کے منصوبہ کو’ نوآبادیاتی سوچ‘ کا مظہر قرار دیتے ہوئے پچیس نومبر کو کنٹرول لائن کے آرپار یعنی کشمیر کے دونوں حصوں میں ہڑتال کی کال دی ہے۔جمعہ کے روز سوپور میں ایک اجتماع سے خطاب کے دوران انہوں نے کشمیر کے صنعت کاروں اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ زمینیں لیز پر حاصل کریں تاکہ ’ غیر ریاستی سرمایہ داروں کو زمین پر ’ قبضہ‘ کا موقع نہ ملے‘۔ ٹنگمرگ، جہاں گلمرگ کا دلکش پہاڑی مقام واقع ہے، کے رہنے والے دو ہندنواز سیاستدانوں نے بھی عوامی احتجاج کو جائز قرار دیا ہے۔ یہاں کے ممبراسمبلی اور پی ڈی پی (اقتدار میں کانگریس کی شریک) کے لیڈر غلام حسن میر نےگزشتہ روز ایک ایسے ہی احتجاجی جلوس سے خطاب کے دوران کہا ’ ہم ایسا نہیں ہونے دینگے‘۔ خود مختار کشمیر کے سابق ’وزیر اعظم‘ شیخ عبدللہ کے فرزند شیخ مصطفیٰ کمال کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ گلمرگ کو نیلام کیا جارہا ہے۔ اب تو دھوبی گھاٹ کے ہی ساڑھے پانچ سو کنال بچے ہیں جہاں کوئی تعمیر نہیں ہوئی ہے۔ پٹن اسمبلی حلقے کے نمائندہ کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنیس سو چھہتر میں گلمرگ کی دیکھ ریکھ کے لئے جو ماسٹر پلان بنایا گیا تھا، موجودہ حکومت اس کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اس پلان کے مطابق اگر گلمرگ میں کوئی تعمیر و تجدید کرنی ہے تو یہاں کے قدرتی حسن، ماحول اور جغرافیہ کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ مقامی انگریزی روزنامہ کشمیر ’اوبزرو‘ نے پندرہ نومبر کو اپنے ادارتی تبصرے میں لکھا ہے کہ حکومت نے اس اقدام سے قبل ہندوستانی افواج کے لئے پچاس ہزار کنال رقبہ اراضی انڈین وزارت دفاع کو ٹرانسفر کیا ہے۔ اخبار کے مطابق، مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کی سیاحتی صنعت کو سنبھالا دینے کے لئے ایسے اقدامات کی ضرورت تو ہے لیکن مخصوص سیاسی صورتحال عوام کے اندر خدشات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی میں تاریخ کے لیکچرار ارشاد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سینئر صحافی رشید شاہد کہتے ہیں کہ’ لینڈگرانٹس‘ کا مسئلہ شیخ عبداللہ کے زمانے سے ہی چلا آرہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پہلے تو غیر ریاستی باشندوں کو صرف چالیس سال کے لئے زمین پٹے پر دینے کا قانون تھا، لیکن شیخ عبداللہ نے قانون میں ترمیم کر کے اس مدّت کو بڑھا کر ننانوے سال کر دیا۔ اب جبکہ صحت افزا مقامات کو لیز پر دیا جا رہا ہے تو لوگوں میں بے دخلی کا احساس پیدا ہوگیا ہے‘۔ چندسال پہلے ایک مقامی ہوٹل کی نیلامی کا ذکر کرے ہوئے مسٹررشید شاہد کہتے ہیں کہ ایک غیر ریاستی سرمایہ کار نے ہوٹل کے مالکانہ حقوق حاصل کرتے ہی کشمیری ملازموں کی چُھٹی کر دی‘۔ | اسی بارے میں کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا کپواڑہ میں انتہا پسند گرفتار16 November, 2006 | انڈیا کشمیر فارمولوں کی دوڑ16 November, 2006 | انڈیا ’بیس ڈالر لے کر بم پھینکا تھا‘ 11 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||