کپواڑہ میں انتہا پسند گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق ضلع کپواڑہ کے دیہاتیوں نے شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ثاقب عزیز ملک نامی انتہا پسند کا تعلق پاکستان کے شہر ملتان سے ہے اور وہ اس وقت فرار ہو گیا تھا جب بدھ کو انتہا پسندوں اور ہندوستانی فوج کے درمیان کپواڑہ کے علاقے غلام میں فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔فرار ہونے کے بعد ملزم نے عوارہ نامی دیہات میں پناہ لی تھی۔ پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق جمعرات کی صبح کو علاقے کے رہائشیوں نے حکام کو اس ملزم کے بارے میں اطلاع دی اور اسے گرفتار کروا دیا۔ پولیس کے سینیر اہلکار اس ایم سائی نے کپواڑہ کا دورہ کیا اور علاقے کے رہائشیوں کے لیے دو ہزار دو سو امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا۔ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ثاقب عزیز اس مہینے کے آغاز میں کشمیر میں داخل ہوا تھا اور وہ چھ افراد پر مشتمعل دراندازوں کے گروہ کا رکن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شہریوں نے کھلے عام کسی انتہا پسند کو پولیس کے حوالے کیا ہے۔ اس سے قبل سکیورٹی فورسیز کے مخبر خفیہ طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ انتہا پسندوں نے سترہ سالوں سے جاری اس لڑائی میں اب تک سینکڑوں مخبروں کو ہلاک کیا ہے۔ | اسی بارے میں سرینگر: حملے میں 7 افراد ہلاک24 February, 2005 | انڈیا کشمیر: چار ہلاک13 September, 2004 | انڈیا کشمیر: جھڑپوں میں چھ ہلاک03 July, 2006 | انڈیا شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ16 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||