کشمیر: زمین کی نیلامی پرنظرثانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کہا ہے کہ غیر کشمیریوں کو زمین پٹّے پر دینے کے فیصلے پر وہ از سر نو غور کریگی۔ اس سےقبل حکومت نے بعض تعمیر ی منصوبوں کے لیے غیر کشمیریوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی۔ ریاست کے وزیر سیاحت محمد دلاور میر نے سری نگر میں ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ چونکہ لوگوں نے حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اس لیے کابینہ نے اس پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نےپچھلےماہ عالمی شہرت یافتہ پہاڑی مقام گلمرگ میں جدید طرز کے ہوٹل اور ’ہٹس‘ یعنی سیاحوں کی قیام گاہیں تعمیر کروانے کی غرض سے پانچ سو کنال رقبہ اراضی پر بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت کافیصلہ کیا تھا۔ اس کے خلاف ہند نواز نیشنل کانفرنس اور علیحدگی پسند جماعتوں نے سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ حکومت کی طرف سے متعدد بار وضاحتوں کے باوجود پچھلے دو ہفتوں سے گلمرگ اور ٹنگمرگ میں مقامی باشندے سرکار کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ قصبہ میں دو دن تک ہڑتال بھی کی گئی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کی سیاحتی صنعت کو سنبھالا دینے کے لئے ایسے اقدامات کی ضرورت تو ہے لیکن مخصوص سیاسی صورتحال عوام کے اندر خدشات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ | اسی بارے میں کپواڑہ میں انتہا پسند گرفتار16 November, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا کشمیر کی ’ نیلامی‘ پر احتجاج19 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||