BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 December, 2006, 10:06 GMT 15:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر نقشے میں بھی متنازع ہے‘

شوکت عزیز
’مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری قیادت، پاکستان اور بھارت مل کر نکالیں گے‘
وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان کے نقشہ میں بھی کشمیر ایک متنازعہ علاقے کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے اور پاکستان نے کشمیر کوکبھی اپنا حصہ نہیں سمجھا ہے۔

انہوں نے یہ بات پیر کو مسلم لیگ ہاؤس میں تین روزہ آل انڈیا مسلم لیگ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کی۔


وزیراعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف کی کشمیر کے حل کی تجاویز پر مثبت رد عمل ظاہر کرنے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔

شوکت عزیز نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری قیادت، پاکستان اور بھارت مل کر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نکالیں گے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ اگر بھارت کشمیر کے بارے میں پاکستان کی تجاویز مان لے تو وہ کمشیر سے دستبردار ہونے کو (اپنے پرانے موقف سے دستبردار ہونے کو) تیار ہیں۔

اس کے ساتھ ہی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ کبھی پاکستان نے کبھی ایسا کہا ہے۔

ان کے بیانات کے بعد سیاسی جماعتوں کا ملا جلا رد عمل سامنے آیا اور بیشتر مذہبی جماعتوں اور بعض شدت پسند تنظیموں نے حکومت کے ذمہ داران کے اُن بیانات پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ کشمیر پالیسی پر حکومت نے ’یو ٹرن‘ لیا ہے۔

کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی پاکستان نے ایسا دعویٰ کیا ہے: تسنیم اسلم

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے کشمیر کے متعلق بیانات سے انہیں لگتا ہے کہ درپردہ سفارتکاری کے ذریعے کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور کسی فیصلے کا اعلان ہونے سے پہلے رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے۔

ایسے میں اب وزیراعظم شوکت عزیز کا یہ بیان آیا ہے کہ کشمیر پاکستان کے نقشے میں ایک متنازعہ علاقے کے طور پر شامل رہا ہے۔

قبل ازیں آل انڈیا مسلم لیگ کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقد تین روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرکے قائد اعظم کی زندگی پر عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بعض مذہبی جماعتوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی لیکن آج پاکستان جوہری ملک ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف کی رہنمائی میں خوشحالی اور ترقی پسندی کی راہ پر گامزن ہے۔

واضح رہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ نامی جماعت انیس سو چھ میں وجود میں آئی تھی اور اس وقت بنگلہ دیش اور پاکستان متحدہ ہندوستان کا حصہ تھے۔ جماعت کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں منعقد کانفرنس میں تینوں ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

اسی بارے میں
کشمیر پر بھارت کی خاموشی
12 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد