BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 December, 2006, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر پر بھارت کی خاموشی

ایل او سی
کشمیرپر پاکستان کا بیان بھارت کے حق میں ہے لیکن پھر بھی وہ خاموش ہے
پاکستان کے دفتر خارجہ کے طرف سے کشمیر سے متعلق بیان پر ہندوستان کی جانب سے کسی طرح کا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وزارت خارجہ کی طرف سے شاید کوئی بیان منگل کی شام تک جاری کیا جا ئے لیکن وہاں سے بھی ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہوا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے بس اتنا کہا تھا کہ ’کوئی ردعمل نہیں،۔

ملک کے سبھی اخبارات نے پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا بیان نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

بعض اخبارات نے اسے اسلام آباد کے موقف ميں تبدیلی سے تعبیر کیا ہے۔

روونامہ ہندوستان ٹا‏ئمز نے لکھا ہے کہ محترمہ اسلم نے اپنے اس بیان سے کہ ’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے‘ صدر پرويز مشرف کے حالیہ بیان کا تضاد پیش کیا ہے۔

ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر مشرف سے پو چھا گیا تھا کہ کیا پاکستان کشمیر پراپنے دعوے سے دست بردار ہو رہا ہے تو انہوں نے جواب دیا تھا’ہمیں دستبردار ہونا پڑے گا۔ جی ہاں اگر میرے (چار نکاتی فارمولے ) حل پر اتفاق ہو جائے۔‘

اخبار کا کہنا ہے اس بیان سے واضح ہے کہ پاکستان اس وقت تک کشمیر پر دعویدار تھا لیکن محترمہ تسنیم کے اس بیان سےصدر کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔

خود اخبار نے بے یقینی کے انداز میں سرخی لگائی ہے ’پاکستانی اہلکار کا بیا ن‘ جبکہ عمومی حالت میں یہ سرخی ' پاکستان کا بیان‘ ہوتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں دفتر خارجہ کے بیان پرسبھی کوحیرت ہوئی ہے لیکن کسی طرح کے بیان سےگریز کیا گیا ہے۔

اس بیان کو ہندوستان کے نقطہ نظر سے موزوں سمجھا جا رہا ہے۔اس لیے کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اس پر بیان دے کر کسی طرح کی غیر ضروری پیچیدگی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی جا رہی ہے کہ پہلے تو صدر مشرف اور اب دفتر خارجہ کی طرف سے ’بولڈ ‘ نوعیت کے بیان دیے جا رہے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں اس کی ٹائمنگ کے بارے میں بھی کئی طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بیانات امریکہ کے دباؤ میں دیۓ جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد