کشمیر: مشروط جنگ بندی ممکن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم مسلح گروپوں کے اتحاد نے کشمیر پر سہ فریقی مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت ہند کو تین شرطوں کے عوض جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مقیم متحدہ جہاد کونسل نامی اتحاد کے سربراہ سید صلاح الدین نے یہ بات پیرکو یہاں کی ایک مقامی خبررساں ایجنسی کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہی۔ یہ پیشکش پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری کے نئی دلّی میں قیام کے دوران سامنے آئی تھی۔ صلاح الدین نے انٹرویو میں بتایا ہے کہ اگر حکومت ہند تمام نظربندوں کی غیر مشروط رہائی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ، افواج کو اُنیس سو نواسی سے پہلے کی پوزیشن پر لائے اور انسانی حقوق کی پامالی پر روک لگائے تو وہ فائر بندی کا اعلان کرینگے۔ ایجنسی نے صلاح الدین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ' 'ہم نے بندوق کا سہارا آخری چارے کے طور پر لیا ہے۔ اگر دونوں طرف کی بندوقوں کا چلنا بند ہوگا تو سب سے زیادہ خوشی ہمیں ہوگی۔ لیکن اس کے لیے ہندوستان کو اپنا خلوص ثابت کرنے کے لئے چند اقدامات کرنے ہونگے۔ ' کشمیر پر مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے صلاح الدین نے کہا ہے کہ پاکستان، ہندوستان اور کشمیری نمائندوں کے درمیان سہ فریقی بات چیت کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا نعم البدل ہوسکتا ہے۔ ' اس وقت بات چیت میں ہمارا شامل رہنا ضروری نہیں، کیونکہ سیاسی محاذ پر بہت سارے ایسے لوگ سرگرم عمل ہیں، جو بات چیت میں ریاستی عوام کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔' مذاکرات کے لئے جگہ کے تعین سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ' معاملہ یہ نہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات چیت کہاں ہوگی، بلکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بات چیت کا ایجنڈا کیا ہوگا۔' صلاح الدین نے نئی دلّی اور میرواعظ عمر فاروق کے گروپ کے درمیان بات چیت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ' اس گروپ نے چالاکی سے کام لے کر لوگوں سے کہا کہ بات چیت مسئلہ کشمیر پر ہورہی ہے۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس سے خواہ مخواہ کا کنفیوژن پیدا ہوگیا۔' انہوں نے دعوی کیا کہ کشمیر میں مقامی عسکری گروپوں نے پچھلے کئی برس میں وافر ہتھیار اور ٹیکنالوجی حاصل کی ہے، لہٰذا انہیں کسی ملک کے سپورٹ کی حاجت نہیں رہی ہے۔ | اسی بارے میں محبوبہ مفتی پر حملہ، ایک ہلاک25 April, 2004 | صفحۂ اول ’واجپئی سے بات کر سکتے ہیں‘24 August, 2003 | صفحۂ اول شدت پسندوں کا جنگ بندی سے انکار06.06.2002 | صفحۂ اول ’حزب دہشت گرد تنظیم نہیں ہے‘01.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||