ہندنواز لیڈروں کا سخت لہجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کے عالمی دن کے موقع پر اعتدال پسندحریت کانفرنس کے ساتھ ساتھ ہندنواز لیڈروں نے بھی حکومت ہند کے خلاف سخت لب و لہجہ اختیار کیا۔ سیاسی پارٹیوں کے موقف میں یہ تبدیلی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ہندوستانی وزیر خارجہ دورۂ پاکستان کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں وہ اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ امن کے عمل کی پیش رفت اور آئندہ حکمت عملی کا جائزہ لیں گے۔ حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو حریت ہیڈ کوارٹر میں انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں حکومت ہند کو خبردار کیا کہ اگر جموں کشمیر میں تعینات فوج کو ہٹایا نہ گیا تو ’ایسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس پر قابو پانا کسی کے بس کی بات نہ ہوگی۔‘ انہوں نے حکومت ہند کو پیشکش کی کہ اگر وہ جموں کشمیر میں تعینات اپنی فورسز کو فائر بندی کا حکم دے دے تو حریت کانفرنس اگلے سال کے آغاز میں پاکستان جا کر مسلح کشمیری قیادت کو مثبت ردعمل پر آمادہ کرے گی۔ میرواعظ کا کہنا تھا: ’ہندوستان کی افواج کا جموں کشمیر میں محض دنددنداتے پھرنا بھی انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے۔ اور پھر جب یہی فورسز ظلم و جبر کا بازار گرم کریں تو ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان طاقت کے بل بوتے پر ہماری آواز کو دبانا چاہتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوگا ، کیونکہ اب عالمی قوتیں کشمیر معاملے سے پوری طرح واقف ہیں۔‘ میرواعظ نے کہا کہ انسانی حقوق پر پوری طرح روک لگانا تب تک ممکن نہیں جب تک ریاست سے فوجی انخلاء کو یقینی نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا: ’اگر ہندوستان چاہتا ہے کہ وہ طاقت کے بل بوتے پر ہماری تحریک کو دبائے تو میں وارننگ دیتا ہوں کہ کل ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جن پر قابو پانا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ اچانک ان کے موقف میں سختی کی کیا وجہ ہے، میر واعظ نے بی بی سی کو بتایا: 'مجاہدین کے ہاتھ میں بندوق ہے، لیکن یہ ان کا شوق نہیں ہے۔ ہم پچھلے سولہ سال سے میانہ روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہم نے بات چیت میں بھی حصہ لیا۔ لیکن انسانی حقوق کی پامالی بھی ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے ہی گھر میں قید کیا گیا ہے۔ہم اگر مجاہدین کو بندوقیں خاموش کرنے کے لیے کہیں گے تو اس کا جواز کیا دیں گے۔ اگر ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی پر اڑا رہا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘ اسی دوران جموں کشمیر پر ستائیس سال تک حکومت کرنے والی نیشنل کانفرنس نے بھی اتوار کو ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جسکی قیادت سابق وزیر اعلیٰ محمد ساگر نے کی۔ انہوں نے سرینگر میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستانی فورسز کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں، لیکن تشدد کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ جنگجوؤں کے ساتھ غیرمشروط بات چیت کی جائے۔ غلام نبی آزاد کی حکومت میں شریک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ اور ہندوستانی پارلیمنٹ کی رکن محبوبہ مفتی نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا: ’اگر ہم فوج سے خصوصی اختیارات واپس لینے اور اندرونی سلامتی کی ذمہ داری مقامی پولیس کو سونپنے کی بات کرتے ہیں تو یہ کُفر نہیں ہے۔ اگر یہاں فوج رہے گی تو شدت پسندوں کو موقع ملتا رہے گا۔ آخر ہم کیوں اِنہیں ٹارگٹ فراہم کرتے ہیں۔‘ محبوبہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی یقین دہانیوں کے باوجود انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے اور ایک چھوٹا سا واقعہ بھی امن عمل کو متاثر کرسکتا ہے۔‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن عمل شروع ہونے کے بعد سے جموں کشمیر کی سیاسی قوتوں میں مسئلہ کشمیر سے متعلق ایک طرح کا اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر: 17 سالوں میں کتنے ہلاک؟09 December, 2006 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا کشمیر: مشروط جنگ بندی ممکن 28 November, 2006 | انڈیا کشمیر: فوجی انخلا کی تیاری؟17 November, 2006 | انڈیا انسانی حقوق کے کارکن پر پابندیاں30 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||