’کشمیر: دستبردار ہونے کو تیار ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر انڈیا ان کی امن تجاویز تسلیم کر لیتا ہے تو پاکستان کشمیر پر اپنے دعوے سے دستبردار ہو جائے گا۔ انڈین نیوز ٹی وی ’این ڈی ٹی وی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل مشرف نے اس سلسلہ میں خطے سے فوجوں کی مرحلہ وار واپسی اور کشمیر کے عوام کو حکمرانی کے حق کی تجویز بھی جنرل مشرف کی اس پیشکش کے جواب میں انڈیا نے کہا ہے کہ ان کا موقف یہ ہے کہ (کشمیر) کا نقشہ نہیں بدلا جا سکتا لیکن سرحدوں کو بے معنی بنایا جا سکتا ہے۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا ’اگر یہ حل ہمارے سامنے رکھا جاتا ہے تو ہمیں کشمیر پر اپنے دعوے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔‘ پاکستانی صدر نے مزید کہا کہ متنازعہ خطے کے معاملے میں گومگو کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے ان کے پاس ایک ’چار نکاتی حل‘ ہے۔ اس حل میں فوجوں کے مرحلہ وار انخلاء اور مقامی لوگوں کو حکمرانی کا حق دینے کے علاوہ یہ تجاویز ہیں کہ کشمیر کی سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیئے اور نگرانی کا ایک مشترکہ طریقہ کار ہونا چاہئیے جس میں بھارت، پاکستان اور کشمیر تینوں شامل ہوں۔ جب جنرل مشرف سے پوچھا گیا کہ وہ کشمیر پر پاکستانی دعوے سے دستبردار ہونے کے لیئے تیار ہیں تو ان کا کہنا تھا ’اگر اس قسم کا حل ہمارے سامنے رکھا جاتا ہے تو تو پھر ہمیں اس دعوے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔‘ اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق مبصرین کی نظر میں پاکستانی صدر کا بیان بھارتی انتظامیہ کے نام یہ پیغام ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر دلیرانہ پیشرفت کے لیئے تیار ہے بشرطیکہ بھارت بھی ایسے ہی جذبے کا مظاہرہ کرے۔
پاکستان میں تـجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنا جنرل مشرف کو عام پاکستانیوں کی نظر میں مقبول بنا سکتا ہے جس سے جنرل مشرف کو مذہبی جماعتوں کو تنہا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہماری نام نگار کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل سے چاہے کچھ اور نہ ہو، انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں یقیناً زبردست تبدیلی آئے گی۔ تــجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ بہتر تجارتی تعلقات سے فوج کو اقتدار میں اپنی مرکزی حیثیت برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انڈین تجزیہ نگار سی راجہ موہن نے نے جنرل مشرف کی تجاویز کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں ’کشمیر پر بھارتی موقف کے قریب ترین‘ قرار دیا۔ ان کہنا تھا ’یہ ایک معقول تجویز ہے اور انڈیا کو اس کا خیر مقدم ضرور کرنا چاہیئے۔‘ واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن بات چیت گزشتہ دو سال سے جاری ہے جس میں دیگر امور کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی شامل ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ممالک ایک مشترکہ پینل کی تشکیل پر بھی متفق ہوئے جس کا مقصد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ ہے۔ اپنے اس انٹرویو سے قبل بھی جنرل پرویز مشرف تنازعہ کشمیر کے حل کے بارے میں مختلف اقدامات کی تجاویز دیتے رہے ہیں۔ اس سال مارچ میں بی بی سی بات کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی صدر جارج بش مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے دباؤ ڈالیں گے۔ | اسی بارے میں کشمیر اور دہشتگردی، بات چیت کا دوسرا دن15 November, 2006 | انڈیا ’ملاقات میں پیش رفت ممکن ہے‘21 November, 2006 | پاکستان مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق15 November, 2006 | انڈیا مسئلہ کشمیر: آئر لینڈ کےماڈل پرغور15 June, 2006 | انڈیا ’مسئلہِ کشمیر کو سمجھنے میں مدد ملي‘25 May, 2006 | پاکستان پاکستان: کشمیر میں ملاجلا ردعمل17 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||