مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق کر لیا ہے۔ پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان اور ان کے ہندوستانی ہم منصب شیو شنکر مینن کے درمیان دو دن کے مذاکرات میں ایک مشترکہ حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ بات چیت کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق مشترکہ نظام کی قیادت دونوں ملکوں کے وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کریں گے اور اس میں مجموعی طور پرتین ممبر ہوں گے۔ دونون ملکوں میں دہشت گردی کے کسی واقعے کی صورت میں یہ مشترکہ گروپ سکیورٹی اور معلومات کے حصول کے معاملے میں باہمی تعاون کے مرکز کے طور پر کام کریگا۔ ریاض محمد خان نے کہا کہ دہشت گردی ایک بین الاقوامی لعنت ہے اور اس کا مقابلہ مشترکہ طور پر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ " ممبئی بم دھماکو کے بعد بد قسمتی سے کمپوزٹ ڈائیلاگ کو معطل کردیا گیا تھا جو اس اصول سے مطابقت نہیں رکھتا تھا کہ دہشت گردی کو امن کے عمل پر اثر انداز نہ ہونے دیا جاۓ۔ اسطرح کی الزام تراشی دونوں ملکوں کے لۓ انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی"۔ ،جوائنٹ میکنزم، کی تجویز ستمبر میں ہوانا میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان بات چیت کے بات سامنے آئی تھی۔ بات چیت کے اختتام پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان نے ہندوستانی حکام سے اپنی بات چیت کو بہت کار آمد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا’یہ بات چیت بہت موثر رہی اور ہم مستقبل کو نظر میں رکھ کر بات چیت کر رہے ہیں‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے حکام نے بعض واقعات سے متعلق کچھ دستاویزات دی ہیں جن کا جائزہ پاکستان کے متعلقہ حکام لیں گے اور بعد میں اسے جوائنٹ مکینزم میں بھی جائزے کے لیئے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے علاوہ کشمیر کے حوالے سے بھی مفصل بات چیت ہو ئی ہے۔ دونوں ممالک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب پچھلے تین سال کے دوران کشمیر کے مسئلے پر اتنی مفصل بات چیت ہورہی ہے۔ بلوچستان شورش میں ہندوستان کا ہاتھ ہونے کے الزام کے بارے میں پوچھے جانے پر انکا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس ثبوت ہیں اور اب میکینزم تشکیل دیا جارہا ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو ہم ان ثبوتوں کو میکنزم کے سامنے رکھے گیں'۔ ریاض محمد خان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مزید بات چیت آئندہ ماہ ہونے کی توقع ہے جب ہندوستان کے وزیر خارجہ اسلام آ باد کا دورہ کریں گے۔ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن نے بات چیت پر اطمنان کا اظہار کیا۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ ممبئی دھماکوں کے بارے میں الزام کے باوجود ثبوت ابھی پیش نہیں کۓ گۓ۔ " ہم نے پاکستان سے یہ کہا ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گرد تنظیمیں جن پر دونوں ہی ملکوں میں پابندی عائد ہیں ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائيں اور خاص کر وہ ہندوستان میں جو کاروائیاں کرتے اس پر روک لگائی جاۓ"۔ واضح رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن مذاکرات چار ماہ کے تعطل کے بعد ہو رہے ہیں۔ پہلے دن پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان اور ان کے ہندوستانی ہم منصب شوشنکر مینن کے درمیان دلی کے حیدرآباد ہاؤس میں بات چیت شروع ہوئی۔
پہلے روز کی بات چیت ميں اعتماد سازی کے اقدامات، سفر کی سہولیات، باہمی تجارت اور اقتصادی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کمپوزٹ ڈائیلاگ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان نے بات چیت کے بعد وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر کشمیری رہنماؤں کے خیالات جاننے کےلیئے ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علحیدگی پسند رہنماؤں سے الگ الگ بات کی۔ جولائی میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع ہو ئے ہیں۔ ہندوستان نے جولائی میں ممبئی بم دھماکوں کا الزام پاکستان پر لگایا تھا تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ | اسی بارے میں ’دہشتگردی سمیت کئی امور پر بات چیت‘14 November, 2006 | انڈیا کشمیر اور دہشتگردی، بات چیت کا دوسرا دن15 November, 2006 | انڈیا پاک بھارت مذاکرات کا نیا دور13 November, 2006 | انڈیا امن مذاکرات معطل کریں: بی جے پی01 October, 2006 | انڈیا دہشت گردی سے مذاکرات کمزور15 August, 2006 | انڈیا ’مذاکرات جاری رہیں گے‘23 August, 2006 | انڈیا ہند پاک مذاکرات اگلے ماہ18 October, 2006 | انڈیا سیاچن، مذاکرات پھر بے نتیجہ24 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||