BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 November, 2006, 08:23 GMT 13:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردی سمیت کئی امور پر بات چیت‘

بات چیت میں دہشتگردی کا مقابلہ مشترکہ طور پر کیے جانے پر زور دیا گیا
ہندوستان پاکستان کے خارجہ سیکرٹریز کے درمیان دلی میں پہلے دن کی بات چیت میں کشمیر اور دہشتگردی کے موضوعات پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

یہ مذاکرات چار ماہ کے تعطل کے بعد ہو رہے ہیں اور اب تک کی بات چیت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔


پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان اور ان کے ہندوستانی ہم منصب شوشنکر مینن کے درمیان دلی کے حیدرآباد ہاؤس میں بات چیت منگل کی صبح شروع ہوئی اور دیر تک جاری رہی۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے بات چیت کے بارے میں کہا بڑی مفصل بات چیت تھی۔ بہت تعمیری اور مثبت ماحول میں ہوئی اور یہ بات چیت ابھی (کل بھی) جاری رہے گی۔

مسٹر سرنا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے مسئلہ پر بات چیت کی اور اس پر قابو پانے کے لیئے مجوزہ مشترکہ طریقہ کار پر غور کیا۔ مسٹر سرنا نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بات ہوئی ہے۔

ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں مسٹر سرنا نے صرف یہی کہا کہ دہشت گردی پر تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ہی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے سلسلے میں درپیش چیلنج کا مقابلہ مشترکہ طور پر کیا جائے۔

پہلے روز کی بات چیت ميں اعتماد سازی کے اقدامات، سفر کی سہولیات، باہمی تجارت اور اقتصادی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کمپوزٹ ڈائیلاگ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان نے بات چیت کے بعد وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر کشمیری رہنماؤں کے خیالات جاننے کےلیئے ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کے علحیدگی پسند رہنماؤں سے الگ الگ بات کی ہے۔

دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا

خارجہ سیکرٹریز اور ان کے وفود کے درمیان بات چیت بدھ کے روز بھی جاری رہےگی اور بات چیت میں حقیقی پیش رفت کا اندازہ مذاکرات کے اختتام پر ہی ہو سکے گا۔ پاکستان کے خارجہ سیکرٹری ریاض محمد خان نے ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کی ہے۔

جولائی میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع ہو ئے ہیں۔ ہندوستان نے جولائی میں ممبئی بم دھماکوں کا الزام پاکستان پر لگایا تھا تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کا عمل ستمبر میں کیوبا میں غیر وابستہ ممالک کی تنظیم کے اجلاس کے دوران صدر پرویز مشرف اور منموہن سنگھ کے درمیان ملاقات سے قبل تک تعطل کا شکار تھا۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان دو روزہ مذاکرات کے لیئے پیر کو دلی پہنچے۔ دلی پہنچنے پر ریاض محمد خان کا کہنا تھا ’وہ تعمیری مذاکرات کی امید لے کر یہاں آئے ہیں‘۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات سے کسی بریک تھرو کی امید نہیں ہے تاہم اس سے یہ تاثر ضرور ملے گا کہ جنوبی ایشیا کے ان حریفوں کے درمیان خطے میں قیامِ امن کی کوششیں متاثر نہیں ہوئی ہیں۔

تجزیہ نگار اودھے بھاشکر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ تمام بات چیت سے کسی بڑے نتیجے کی توقع تو نہیں کی جائے گی تاہم کسی بڑی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ مذاکرات کا عمل پھر سے جمود کا شکار نہ ہو۔

وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر پرویز مشرف نے ہوانا میں ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکنزم کے قیام پر بھی اتفاق کیا تھا۔ اس بات کی قوی امید ہے کہ مسٹرمینن پاکستان پر اس معاملے میں مزید اقدامات اٹھانے کے لیئے دباؤ ڈالیں گے۔

انڈیا کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ماضی میں اس بات کی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستان اس یقین دہانی پر قائم رہے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں قرار داد ہی اس خطے میں جاری مزاحمت کی اہم وجہ ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر پر پاکستان اور انڈیا دونوں اپنی اپنی ملکیت کے دعویدار ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ مسٹر ریاض محمد خان مذاکرات کے دوران اس نکتے کو بھی اٹھائیں گے۔

امن مذاکرات میں تعطل
 پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن مذاکرات کا عمل دو ہزار چار میں شروع ہوا تھا جو اس سال جولائی میں ممبئی دبم دھماکوں کی وجہ سے جمود کا شکار ہو گیا تھا۔ ان دھماکوں میں تقریبًا دو سو افراد ہلاک ہو گئے تھے

پاکستان سیاچن کے محاذ پر طے کردہ منصوبے کے تحت فوجی انخلاء میں پیش رفت کا متقاضی ہے۔ سن 1989 میں انڈیا کی جانب سے سیاچن کے ایک حصے پر قبضے کے بعد سے دنیا کے اس سب سے بلند محاذِ جنگ ( 18,500فٹ) پر دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن مذاکرات کا عمل دو ہزار چار میں شروع ہوا تھا جو اس سال جولائی میں ممبئی دبم دھماکوں کی وجہ سے جمود کا شکار ہو گیا تھا۔ ان دھماکوں میں تقریبًا دو سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہندوستان کے حکام کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اس قسم کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے قبل فریقین کو اس قسم کے ’غیر سنجیدہ الزامات‘ سے گریز کرنا چاہیے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ممبئی دھماکوں میں خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے بارے میں ہندوستان کی جانب سے ثبوت کا منتظر ہے۔ سیاچن کے معاملے پران کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے دونوں جانب معمولی اختلافات موجود ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد