BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 August, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذاکرات جاری رہیں گے‘

پرچم
’اعتماد سازی، تعاون اور مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں ہے۔‘
ہندوستان میں حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات جاری رہیں گے اور کشیدگی ختم کر نے کے لیئے بات چیت کے راستے کو ترجیح دی جائے گی۔

گزشتہ ماہ ممبئی میں بم دھماکوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہوجائے گا۔
لوک سبھا میں بحث کے دوران وزیرخارجہ برائے مملکت ای احمد نے کہا کہ حکومت ہند پاکستان کے ساتھ تشدد اور شدت پسندی سے خالی ماحول میں ’اعتماد سازی، تعاون اور مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نےجموں کشمیر پر ’مشترکہ کنٹرول یا مشترکہ نظم و ضبط‘ کا جو نظریہ پیش کیا ہے وہ کشمیر مسئلہ کے حل کی بنیاد نہیں بن سکتا ہے۔ ’جموں کشمیر انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر بھارت کے اقتدار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔‘ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ شملہ معاہدے کے تحت کشمیر سمیت تمام مسائل کے حل کا خوہاں ہے۔

ادھر راجیہ سبھا میں بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات پر کئی طرح کے سوالات اٹھائے گئے۔ وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے کہا کہ حکومت نے شدت پسندی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تمام مسائل کو زور شور سے اٹھایا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ممبئی بم دھاکوں کے متعلق پاکستان کو بعض اطلاعات فراہم کی گئی تھیں لیکن اس سلسلے میں مزید اطلاعات کی ضرورت ہے اور جب وہ دستیاب ہوجائیں گی تو پاکستان کو آگاہ کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کے لیئے شدت پسندی پر لگام لگانا ضروری ہے۔

سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے سوال و جواب کے دوران کہا کہ انکی حکومت نے پاکستان کے ساتھ سخت رویہ اپنایا تھا۔ اس کے جواب میں شیو راج پاٹل نے کہا کہ سابقہ حکومت بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے حق میں نہیں تھی اور پارلیمنٹ حملے کے بعد بھی حکومت نے کوئی سخت قدم نہیں اٹھا یا تھا۔

گزشتہ ماہ ممبئی میں بم دھماکوں کے بعد بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ حملوں میں ان تنظیموں کا ہاتھ ہے جو پاکستان میں ہیں۔ لیکن پاکستان نے ان تمام الزمات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ بم دھماکوں کی تفتیش میں وہ بھارت کی ہر ممکنہ مدد کے لیے تیار ہے۔

ممبئی بم دھماکے کے بعد بھارت نے جو رخ اپنایا تھا اس سے دونوں ملکوں کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے اور دونوں ملکوں کی نئی دلی میں ہونے والی بات چیت بھی ملتوی ہوگئی تھی۔ لیکن ڈھاکہ میں دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹریوں نے ملاقات کے بعد مذاکرات کو جاری رکھنے کی بات کہی تھی۔

کشمیر کانفرنس
وزیراعظم منموہن سنگھ نے کیا کہا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد