BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 October, 2006, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند پاک مذاکرات اگلے ماہ

صدر مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ
ہوانا: صدر مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان آئندہ ماہ سے مذاکرات دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔ وزارات خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ہندوستان کے خارجہ سیکرٹری شیو شنکو مینن اور ان کے پاکستانی ہم منصب ریاض محمد خان دلی میں 13 سے 15 نومبر کو بات چیت کرینگے۔ دونوں سکریٹری کمپوزٹ ڈائیلاگ میں پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

اس بات چیت میں سب سے اہم موضوع دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ طریقہ کار ہوگا۔ دونوں اہلکاروں کو ایک مشترکہ قابل عمل طریقہ کار وضع کرنا ہوگا جو ایک مشکل کام ہے۔

گزشتہ مہینے ہوانا میں پاکستانی صدر پرویز مشرف اور ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کی ملاقات کے بعد دہشت گردی کے خلاف ایک مشترکہ طریقہ کار تشکیل دینے کی بات کہی گئي تھی۔

گزشتہ جولائی میں ممبئی کی کئی ٹرینوں میں خونریز بم دھماکوں کے لیے ہندوستان نے پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور ہند پاک مذاکرات کا عمل معطل کر دیا تھا۔ پاکستان نے ان الزامات کو قطعی طور پر مسترد کردیا تھا لیکن ہندوستان اپنے الزام پر مضر ہے۔

اس سلسلے میں مہاراشٹر پولیس کے سربراہ اور دہشت گرد سیل کے چیف نے وزارت داخلہ کو اپنی تفتیش کی تفصیلات پیش کردی ہیں۔ ہندوستان نے پاکستان کا ہاتھ ہونے سے متعلق مبینہ ثبوت امریکہ کے سامنے بھی رکھے ہیں اور کہا ہے کہ وہ یہ ثبوت پاکستان کو بھی دیگا۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ خارجہ سکریٹری کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں یہ مبینہ ثبوت بھی رکھے جائیں گے یا نہیں۔

ادھر ہندوستانی پولیس نے جولائی کے بم دھماکوں کے سلسلے میں دس پاکستانی شہریوں کے خلاف انٹرپول سے ریڈ الرٹ جاری کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ اس بات چیت سے پہلے پاکستان پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

شیو شنکر مینن نے یکم اکتوبر سے خارجہ سکریٹری کا چارج سنبھالا ہے اور وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ خود پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔ وزارت خارجہ کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر مینن اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار کی تشکیل کی پوری کوشش کرینگے۔ اس بات چیت میں یہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ اس میں کس سطح کی نمائندگی ہوگی، کتنے لوگ شامل ہونگے اور اس کے کام کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بات چیت میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے پاکستان کےمجوزہ دورے کی بھی ابتدائی تفصیلات طے کی جاسکتی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد