’دھماکےآئی ایس آئی نےنہیں کرائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ممبئی بم دھماکوں کی ذمہ دار ہے۔ گذشتہ ممبئی پولیس کمشنر اے این رائے نے کہا تھا کہ گیارہ جولائی کے ٹرین بم دھماکے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، لشکر طیبہ اور ایک تنظیم سیمی کے کارکنان کی سازش کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات طارق عظیم نے کہا کہ پاکستان ممبئی کے پولیس کمشنر کے الزام کا جائزہ لے رہا ہے۔ البتہ انہو ں نے کہا کہ آئی ایس آئی پر الزام بھارت کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم دونوں نے ممبئی بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور بھارت کو ملک کے اندر بڑھتی ہوئے مزاحمت پر توجہ دینی چاہیے اور ان محرکات کا احاطہ کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ انڈیا نے ان الزامات کی حمایت میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ ’ہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر بھارت کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو ہمیں فراہم کریں‘۔ پولیس کمشنر انامی رائے نے کہا کہ پاکستان سے تین مختلف ٹیمیں علیحدہ راستوں سے ممبئی پہنچیں اور دو پاکستانیوں کو انڈیا کے کمال الدین انصاری نے نیپال کے راستے ممبئی پہنچایا۔ کمشنر کے مطابق پانچ پاکستانیوں پر مشتمل دوسرے گروپ کو کولکتہ سے عبدالماجد انڈیا لائے جبکہ تیسرا گروپ گجرات کے راستے آیا۔ اس طرح گیارہ پاکستانی ممبئی پہنچے۔ پولیس کمشنر کا کہنا تھا کہ اس گروپ کو ممبئی میں لشکر طیبہ کے اہم رکن فیصل شیخ نے ملاڈ، باندرہ، بوریولی اور ممبرا میں رکھا۔ کمشنر کے مطابق احسان اللہ پندرہ سے بیس کلو آر ڈی ایکس اپنے ساتھ لے کر آئے تھے اور بم بنانے کے لیئے امونیم نائیٹریٹ ممبئی سے خریدا گیا تھا۔
پولیس کمشنر رائے نے بتایا کہ بم ٹرین میں رکھنے کے لیئے ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی رکن پر مشتمل ٹیم بنائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ چرچ گیٹ سٹیشن میں داخل ہوتے ہی پلیٹ فارم نمبر دو اور تین پر پہلا ڈبہ چونکہ فرسٹ کلاس کا آتا ہے اس لیئے انہوں نے بم کو اسی ڈبے میں رکھا۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ بم رکھنے کے بعد سب اتر گئے لیکن ایک پاکستانی شخص کی لاش موجود ہے جو ٹرین سے اتر نہیں پایا اور اس دھماکہ میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس کمشنر کے مطابق اس شخص کا نام سلیم ہے جو لاہور کا رہنے والا ہے۔ کمشنر رائے کے مطابق جو گیارہ پاکستانی ممبئی پہنچے تھے ان میں ایک سلیم کی موت ٹرین دھماکوں میں ہوئی اور دوسرے محمد علی عرف ابو اسامہ ابو عمید کو پولس نے انٹاپ ہل میں خفیہ اطلاع کے بعد پولیس مڈ بھیڑ میں ہلاک کیا تھا۔ کمشنر کے مطابق بقیہ نو پاکستانی یا تو فرار ہو چکے ہیں یا پھر کہیں روپوش ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک گیارہ جولائی بم دھماکوں میں پندرہ افراد کو گرفتارکر لیا ہے لیکن مزید تین سے چار افراد کی تلاش جاری ہے۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ اب تک گرفتار پندرہ میں سے تین افراد کو شاید رہا کر دیا جائے کیونکہ ان کا کردار ان دھماکوں میں ثابت نہیں ہوا ہے۔ ان دھماکوں کے لیئے فنڈ کے بارے میں کمشنر نے بتایا کہ پاکستان سے پیسے سعودی عرب میں رہنے والے رضوان ڈاورے کے پاس پہنچے تھے اور وہ سعودی ریال حوالہ کے ذریعہ فیصل شیخ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق چھبیس ہزار ریال فیصل کو مل چکے تھے اور بڑی رقم آنے والی تھی۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش فیصل نے بتایا کہ اب تک اسے ساٹھ لاکھ روپے مل چکے ہیں۔ پولیس کمشنر نے اس بات کی وضاحت کی کہ بم دھماکوں کے بعد کوئی سراغ نہیں تھا لیکن اس کے باوجود جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ وہ ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی فون کے ذریعہ پتہ چلا کہ کوئی نیپال کی سرحد پر بار بار فون کر رہا ہے اور اسی نمبر سے سراغ ملنے کے بعد ہی پولیس نے مدھو بنی سے کمال الدین انصاری کو گرفتار کیا۔ گرفتارشدہ تمام ملزمان کے خلاف مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ( مکوکا ) کے تحت کیس درج کیا جائے گا۔ مہاراشٹر کے ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کا کہنا تھا کہ وہ ان دھماکوں کے مقدمہ کے لیئے تیز رفتار عدالت قائم کریں گے اور دیکھیں گے کہ دو سال کے اندر فیصلہ ہو جائے۔ | اسی بارے میں ممبئی میں زندگی معمول پر12 July, 2006 | انڈیا 12 جولائی: یہی تو میرا ممبئی ہے12 July, 2006 | انڈیا ہمیں کوئی جھکا نہیں سکتا: منموہن12 July, 2006 | انڈیا مشرف کارروائی کریں: انڈیا12 July, 2006 | انڈیا دھماکوں کی بین الاقوامی مذمت12 July, 2006 | انڈیا ’بھارت پاکستان میں کارروائی کرے‘13 August, 2006 | انڈیا بمبئ بم دھماکے: اب تک کی تحقیقات 09 August, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے اور حیدرآباد: دکن ڈائری 15 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||