’مسئلہِ کشمیر کو سمجھنے میں مدد ملي‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر پر سرینگر میں دو روزہ گول میز کانفرنس کے اختتا م پر وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس کانفرنس سے مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلووں کو سمجھنے کی مدد ملی ہے۔ کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کو پر امن طریقہ سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ کانفرنس میں وزیر اعظم کی تجویز پر پانچ مختلف گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو خطے کی معیشت کو بہتر بنانے سے لیکر کشمیریوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے پہلووں کا جائزہ لے گا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کانفرنس کے اختتام کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کو بعض جامع تجاویز پیش کی ہيں اور اس سلسلے میں پاکستان کے جواب کا انتظارکیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان تجاویز کی تفصیلات نہيں بتائیں۔ مسٹر سنگھ نے کانفرنس کے اختتامی خطاب میں کہا کہ پاکستان سے تعلقات معمول پر آنے سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی ترقی کے وسیع مواقع میسر ہوں گے۔ اس لئے عوامی سطح پر تعلقات کا فروغ ضروری ہے۔ ’اس طرح کے رابطوں سے ہم ایک مشترکہ مستقبل کا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘ مسٹر سنگھ نے کہا کہ پاکستان سے امن مذاکرات نے زبردست امید پیدا کیں ہیں اور آگے جانے کے لئے قدم بہ قدم آگے بڑھنا ہوگا۔ ’میں چاہتا ہوں کہ امن کے قیام کا یہ عمل دونوں ملکوں کے درمیان امن ، سلامتی اور دوستی کے ایک معاہدے کی شکل لے سکے۔‘ دو روزہ مذاکرات میں جن میں تقریبا 30 نمائندوں نے شرکت کی وہ تقریبا سب کے سب ہندوستان نواز جماعتوں اور تنظیموں کے نماندے تھے۔ حریت کانفرنس اور دیگر علحیدگی پسند رہنماؤں نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ کشمیر کے حوالے سے جو باتیں ہوئی ہیں وہ بنیادی طور پر اندرونی اور خود مختاری دینے اور ایل او سی کو ’سافٹ بارڈر‘ میں تبدیل کرنے کی تجاویز تک محدود تھیں۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے کشمیری عوام کے مصائب سے آشنا ہيں۔ ’میں نے سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ حقوق انسانی کے اصولوں کی پاسداری کریں اور تمام لوگوں کی عزت خودداری اور آزادی کے تیئں حساس رہیں۔‘ مسٹر سنگھ ایک دیگر سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’سیکورٹی فورسز یہاں کی مقبوضہ علاقہ میں نہیں ہے وہ یہاں اپنے ہی شہریوں کو آزادی اور انکی زندگی کے تحفظ کے لۓ ہیں۔‘ وزیر اعظم نے یہ پیش کش بھی کی ہے کہ وہ لوگ جو عسکری سرگرمیوں کو چھوڑ کر واپس آنا چاہتے ہیں وہ سرحد پار سے واپس آسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ورکنگ گروپ نہ صرف ’ریاست کی اقتصادی ترقی کے پہلووں کا جائزہ لے گا بلکہ وہ یہ بھی بتاۓ گا کہ دلی سے کشمیر کے رشتہ کو کس طرح مزید مضبوط کیاجاۓ۔‘ ورکنگ گروپ اپنی رپورٹ تیسری گول میز کانفرنس میں پیش کریں گا جس کی تاریخ ابھی نہیں بتائی گئي ہے۔ | اسی بارے میں وزيراعظم منموہن سنگھ کی تقریر 24 May, 2006 | انڈیا گول میز کانفرنس: کشمیر میں ہڑتال25 May, 2006 | انڈیا کشمیر: بات ہو، مگر ہو پتے کی 24 May, 2006 | انڈیا ’کشمیری قیدیوں پر تشدد ہوتا ہے‘25 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||