سرحدیں بےمعنی ہونی چاہئیں: انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے خارجی امور کے وزیر مملکت آنند شرما نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کےبارے میں ہندوستان کاموقف یہی ہے کہ کنٹرول لائن کو ' بے معنی، بنا دیاجائے۔ لیکن حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیئنر رہنما اور سابق صدر وینکیا نائڈو کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کا یقین نہیں کیا جا سکاتا۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی لیڈر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے بیا بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آنند شرما نے کہا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ اس موقف کی پہلے ہی وضاحت کر چکے ہيں 'اب سرحدیں دوبارہ نہیں بنائی جا سکتیں اور موجودہ سرحدوں کو بے معنی بنانا ہوگا۔،
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے ساتھ ساتھ پورا خطّہ معیشت کی ترقی اور خوشحالی سے تبھی فائدہ اٹھا سکتا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ اور بے اعتمادی کی فضا ختم ہو جائے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے 'صدر مشرف نے بھی وہی بات کہی ہے جو ہمارے وزير اعظم نے کہی تھی کہ ہم جموں کشمیر کی سرحدوں کو بدل نہيں سکتے اور مشرف صاحب کہتے ہیں کہ ان سرحدوں کو بے معنی بنا دیا جائے۔، ایک نجی ٹی وی چنیل پر بی جے پی کے سابق صدر وینکیا نائیڈو کا کہنا تھا 'صدر مشرف کا یقین نہیں کیا جا سکتااس سے قبل بھی کئی مرتبہ انہوں نے کئی وعدے کئے ہيں لیکن پھر وہ اس سے پلٹ جاتے ہيں۔، مسٹر نائیڈو نے کہا کہ جموں کشمیر کا مسئلہ تبھی حل ہو سکتا ہے جب 'پاکستان دہشتگردی کی مدد کرنا بند کرے اوراس کے بعد ہی مشرف سے بات چیت کرنا ممکن ہوگا۔، | اسی بارے میں کشمیری باڑ میں ’برائی‘ نہیں: امریکہ31.07.2003 | صفحۂ اول کشمیر: مذاکرات کا خیرمقدم06 January, 2004 | صفحۂ اول مشرف پلان حرف آخرنہیں: قصوری26 October, 2004 | صفحۂ اول ’کمشیر تقسیم نہیں ہوگا‘09.05.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||