| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر: مذاکرات کا خیرمقدم
دونوں جانب کے کشمیری رہنماوں نے آئندہ ماہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مذاکرات شروع کرنے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ یہ ایک تاریخی قدم ہے، یہ آگے کے جانب ایک قدم ہے، اور یہ امن پسند لوگوں کی جیت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات ایک ’ٹرننگ پوائنٹ‘ ثابت ہوں گے اور کشمیر کے حوالے سے یہ یوں بھی اہم ہیں کہ واجپئی نے پاکستان کی طرف دوستی کا کشمیر ہی سے بڑھایا تھا۔ اس لیے کشمیر امن کا مرکز قرار پائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ پاکستان کی جانب سے نئی یقین دہانی کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تشدد میں مذید کمی آئے گی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما علی شاہ گیلانی نے بھی مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کا افسوس ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں کشمیریوں کا ذکر نہیں ہے اور کہا گیا ہے کہ ’مذاکرات ایسے تصفیے پر منتج ہوں گے جو دو طرفہ اطمینان کا حامل ہو گا‘ لیکن کشمیریوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ دہشت گرددی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آزادی کی جدو جہد اور دہشت گردی میں تمیز کرنی ہو گی۔
حریت ہی کے عباس انصاری گروپ کے ترجمان غنی بھٹ نے بھی مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کے تصفیے کے لیے مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مذاکرات کشمیر پر ہوں گے تو مذاکرات کرنے والوں کے ذہن میں کشمیری ہی ہوں گے اور اس اعتبار سے وہ شامل رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کا عمل شروع ہونے کے بعد اگر کہا جاتا ہے کہ ماحول کو سازگار بنانے کے لیے بندوقیں رکھ دی جائیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘ متحدہ جہاد کونسل کے رہنما سید صلاح الدین نے بھی پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کا خیر مقدم کرتے کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی توقعات کے مطابق ہو گا۔
جہاد کے نام سے مسلح جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے اس اتحاد کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات فائر بندی سے مشروط نہیں ہیں اور وہ بھارتی فوج کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات میں تمام فریقوں کو شامل کیا جاتا ہے، بھارت اپنی جیلوں میں بند تمام کشمیری نظر بندوں کو رہا کرتا ہے، کشمیر میں جاری آپریشن بند کر کے فوجوں کو واپس بیرکوں میں لے جاتا ہے تو ہم سمجھیں گے کہ بھارت کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ اور پُر خلوص ہے تو وہ بھی اس مثبت جواب دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||