BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 January, 2007, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملا عمر آئی ایس آئی کے پاس نہیں: طالبان

ملا عمر (فائل فوٹو)
ملا عمرکو 2001 کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا ہے
طالبان نے افغان خفیہ ایجنسی کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے اسلامی ملیشاء کے ترجمان ڈاکٹر حنیف نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا عمر پاکستان کے شہر کوئٹہ میں آئی ایس آئی کی حفاظت میں ہیں۔

جمعرات کے روز کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے سٹلائیٹ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے بتایا کہ ’اگر افغان خفیہ ادارے کا دعویٰ حقیقیت پر مبنی ہے تو ڈاکٹر حنیف کو میڈیا کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ یہ بالکل جھوٹ ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘

 افغان خفیہ ادارے نے افغانستان میں صحافیوں کے سامنے جو آڈیو کیسٹ پیش کیا ہے اس میں آواز ڈاکٹر حنیف کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہے۔
طالبان ترجمان قاری یوسف

طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد حنیف کو پیر کے روز افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ افغانستان کے انٹیلیجنس حکام کا دعوی ہے کہ ڈاکٹر حنیف نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ ملا عمر کو کوئٹہ میں آئی ایس آئی نے محفوظ مقام پر رکھا ہوا ہے۔

پاکستان نے بھی طالبان ترجمان کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے۔

قاری یوسف نے مزید بتایا کہ افغان خفیہ ادارے نے افغانستان میں صحافیوں کے سامنے جو آڈیو کیسٹ پیش کیا ہے اس میں آواز ڈاکٹر حنیف کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہے۔

انہوں نے افغان حکام کے اس دعوے کو بھی رد کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر حنیف سے ایک خط بھی برامد ہوا ہے جس میں ملا عمرنے حکم دیا ہے کہ طالبان کے اہم کمانڈر ملا داد اللہ کو ختم کیا جائے۔

’ ڈاکٹر حنیف طالبان کا ترجمان ضرور تھا لیکن نہ تو وہ کوئی کمانڈر تھا اور نہ ہی طالبان تحریک میں کسی بڑے عہدے پر رہ چکا تھا۔ اس کا تعلق تو صحافت سے تھا۔ اگر اس طرح کی کوئی بات ہوتی بھی تو اس کے پاس خط کیوں کر ہوتا؟‘

قاری یوسف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر حنیف پہلے بھی افغانستان میں تھے اور ان کی گرفتاری بھی وہاں سے ہوئی ہے۔

واضع رہے کہ ڈاکٹر حنیف کی گرفتاری کے بعد طالبان نے ان کی جگہ ذبیع اللہ مجاہد کو نیا ترجمان مقرر کیا ہے۔ نئے مقرر ہونے والے ترجمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان پریس کمیٹی کے رکن تھے اور انہوں نے لڑائیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

اسی بارے میں
’ملا عمر پاکستان میں ہے‘
17 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد