ملا عمر آئی ایس آئی کے پاس نہیں: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے افغان خفیہ ایجنسی کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے اسلامی ملیشاء کے ترجمان ڈاکٹر حنیف نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا عمر پاکستان کے شہر کوئٹہ میں آئی ایس آئی کی حفاظت میں ہیں۔ جمعرات کے روز کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے سٹلائیٹ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان قاری یوسف نے بتایا کہ ’اگر افغان خفیہ ادارے کا دعویٰ حقیقیت پر مبنی ہے تو ڈاکٹر حنیف کو میڈیا کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ یہ بالکل جھوٹ ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں۔‘ طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد حنیف کو پیر کے روز افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ افغانستان کے انٹیلیجنس حکام کا دعوی ہے کہ ڈاکٹر حنیف نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا ہے کہ ملا عمر کو کوئٹہ میں آئی ایس آئی نے محفوظ مقام پر رکھا ہوا ہے۔ پاکستان نے بھی طالبان ترجمان کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے۔ قاری یوسف نے مزید بتایا کہ افغان خفیہ ادارے نے افغانستان میں صحافیوں کے سامنے جو آڈیو کیسٹ پیش کیا ہے اس میں آواز ڈاکٹر حنیف کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہے۔ انہوں نے افغان حکام کے اس دعوے کو بھی رد کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر حنیف سے ایک خط بھی برامد ہوا ہے جس میں ملا عمرنے حکم دیا ہے کہ طالبان کے اہم کمانڈر ملا داد اللہ کو ختم کیا جائے۔ ’ ڈاکٹر حنیف طالبان کا ترجمان ضرور تھا لیکن نہ تو وہ کوئی کمانڈر تھا اور نہ ہی طالبان تحریک میں کسی بڑے عہدے پر رہ چکا تھا۔ اس کا تعلق تو صحافت سے تھا۔ اگر اس طرح کی کوئی بات ہوتی بھی تو اس کے پاس خط کیوں کر ہوتا؟‘ قاری یوسف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر حنیف پہلے بھی افغانستان میں تھے اور ان کی گرفتاری بھی وہاں سے ہوئی ہے۔ واضع رہے کہ ڈاکٹر حنیف کی گرفتاری کے بعد طالبان نے ان کی جگہ ذبیع اللہ مجاہد کو نیا ترجمان مقرر کیا ہے۔ نئے مقرر ہونے والے ترجمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان پریس کمیٹی کے رکن تھے اور انہوں نے لڑائیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔ | اسی بارے میں ’ترجمان کا بیان بے بنیاد ہے‘18 January, 2007 | پاکستان ’ملا عمر پاکستان میں ہے‘17 January, 2007 | پاکستان طالبان کے ترجمان ’گرفتار‘16 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||