طالبان کے ترجمان گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوموار کے روز طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد حنیف کو پاک افغان سرحد کے قریب افغانستان کے علاقے سے گرفتار کیا ہے۔ افغانستان انٹیلیجنس کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر حنیف کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پاکستان کے سرحدی شہر طورخم کو عبور کرنے کے بعد افغانستان میں داخل ہوئے۔ طالبان ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ان کا اصلی نام عبدالحق حقیق ہے جبکہ وہ طالبان کے ترجمان کے طور پر خود کو ڈاکٹر محمد حنیف ظاہر کرتے تھے۔ ان کا تعلق افغانستان کہ صوبہ ننگرہار سے بتایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد حنیف اکتوبر دو ہزار پانچ میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پاکستانی پولیس کے ہاتھوں طالبان کے اس وقت کے ترجمان عبدالطیف حکیمی کی گرفتاری کے بعد طالبان کے ترجمان کے طور پر میڈیا کے سامنے آئے۔ اس سے قبل طالبان کے ایک اور ترجمان محمد یاسر کو بھی پشاور کے قریب ایک مہاجر کیمپ سے گرفتار کیاگیا تھا۔ ڈاکٹر محمد حنیف صحافیوں سے بہت کم ملتے تھے اور اکثر اوقات نامعلوم مقام سے فون پر طالبان کے مؤقف کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے تھے۔ ڈاکٹر حنیف کو طالبان رہنما ملا عمر کے قریب سمجھا جاتا ہے اور حال ہی میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ان کی وساطت سے ملا عمر کے ساتھ ایک انٹرویو بھی کیا تھا۔ | اسی بارے میں پاکستان، القاعدہ، امریکہ اورمشکلات13 January, 2007 | پاکستان نوشہرہ کے جلوزئی کیمپ میں دھماکہ 15 January, 2007 | پاکستان وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک16 January, 2007 | پاکستان وزیرستان میں امن معاہدے پر زور16 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||