BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 January, 2007, 20:18 GMT 01:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان، القاعدہ، امریکہ اورمشکلات

اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری
اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی سبھی کو تلاش ہے
امریکی خفیہ اداروں کے سربراہ جان نیگرو پونٹے کے اس بیان سے کہ پاکستان میں القاعدہ تنظیمیں پھراپنے آپ کومنظم کررہی ہیں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا کیامطلب ہے۔

سچ یہ ہے کہ دو ہزار ایک میں پاکستان نےدہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی حمایت دباؤ میں آکر کی تھی اور اسی فیصلے سے طالبان اور القاعدہ کے تئیں پاکستان کی پالیسی میں دوغلا پن پیدا ہوا۔

طالبان اور القاعدہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت پرانے ہیں اور وہ ان کی برسوں سے مدد کرتا رہا تھا۔ لیکن جب امریکہ نے ان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو پاکستان نے بھی اس کی حمایت میں اسی شدت سے ان کی بیخ کنی کرنی شروع کی۔

اسّی کے عشرے میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی نے سویت یونین کی فوجوں کے خلاف افغان مجاہدین کی زبردست مدد کی تھی۔ نوے میں پاکستانی حکومت کی حکمت عملی اور سفارتی سطح پر طالبان حکومت کی مدد کا بھی سبھی کو بخوبی علم ہے۔

لیکن جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا منصوبہ بنایا تو پاکستان کو راتوں رات افغانستان کی سرحد پر وہ تمام کارروائیاں روکنی پڑیں جو طالبان کی مدد کے لیے ایک مدت سے جاری تھیں۔

لیکن چونکہ ان سے وابستگی اورانہماک اتنا زیادہ تھا کہ ان کے خلاف کاروائی اتنی شد ومت سے نہیں ہوپائی جتنی کی توقع کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سنہ دوہزار دو میں ہی اسلام آباد پر طالبان سے ہمدردی کے الزمات لگنے لگے تھے۔

اس دور کے ذرائع ابلاغ میں شائع خبروں میں بھی پاکستانی انٹیلیجنس کے افسران پر اس طرح کے الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ طالبان کو تحفظ دے رہے تھے یا ان کی مدد کی جارہی تھی۔

پاکستان کے لیے یہ بھی بہت مشکل تھا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شورش کو ہوا نہ دے کیونکہ اس کے لیے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنا بھی بہت ضروری تھا۔

امریکی انتظامیہ میں سینئر حکام کو ان سب باتوں کا بخوبی علم تھا۔ لیکن چونکہ انہیں افغانستان جنگ کے لیے پاکستان کی سخت ضرورت تھی اس لیے وہ اسے رعایت دیتے رہے۔ انہیں یقین تھا کہ جب تک پاکستان اپنے وعدے پر قائم ہے وہ افغانستان میں سست روی سےاپنا مشن جاری رکھ سکتے ہیں۔

نیگرو پونٹے کے مطابق القاعدہ پاکستان میں پھرمنظم ہورہی ہے

اس سست روی سے پاکستانی حکومت کو بھی موقع ملا کہ وہ اس پیچیدہ صورت حال سے ہوشیاری سے نمٹ سکے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس پورے عمل کے دوران پاکستانی حکومت میں بھی کچھ لوگوں کو احساس ہو چلا ہے کہ اگر افغانستان میں پاکستان کے مفاد کو خطرہ لاحق ہو تو اسے کارروائی سے باز رہنا چاہئے۔

امریکہ کی پوری توجہ عراق میں جنگ کی طرف ہونے سے بھی دباؤ میں کمی آئی ہے۔ پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشنز شروع کیے تھے لیکن بعد میں ان کے ساتھ معاہدہ کرلیا جس کے نتیجے میں وہ علاقہ پھر طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں پھر سے بیرونی ممالک کے شدت پسند جمع ہورہے ہیں۔

مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں بھی اسی قسم کے معاہدے سے پورا علاقہ القاعدہ کا گڑھ بنتا جارہا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں شورش سبھی کی توجہ کا مرکز رہی ہے لیکن وہاں پشتونوں کے تحفظ پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ مغربی اور بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ کی نظر میں یہ پورا علاقہ القاعدہ اور طالبان کے لیے سب سے محفوظ جگہ ہے۔

کشمیر میں چونکہ بھارتی فوج کی بڑی تعداد موجود ہے اس لیے وہاں شدت پسندوں کے لیے مشکلیں ہیں لیکن افغانستان کی حکومت خود بے بس ہے اور بیرونی ملک کی فوج کی موجودگی شدت پسندوں کو حملہ کرنے پر اکساتی رہتی ہے۔

نیٹو افواج کی بمباری اور زمینی حملوں سے بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہورہے ہیں اس لیے ناراض لوگ طالبان اور القاعدہ میں آسانی سے بھرتی ہور ہے ہیں۔

گزشتہ برس حالات قدرے مشکل تھے۔ تقریبا دو سو بیرونی فوجی ہلاک ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں افغانی فوجی اور شہری مارے گئے۔ لیکن ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں طالبان اور شدت سے حملہ کریں گے جس سے بیرونی فوجیوں کی ہلاکتیں بڑھ سکتیں ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں نیٹو کے پاس دو راستے ہیں یا تو وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر زبردست بمباری کرکے پورے علاقے کو سیاسی طور پر تہس نہس کردے گا یا پھر، جیساکہ بعض پاکستانی انٹیلیجنس کے لوگ کا کہنا ہے، وہ افغانستان سے باہر نکل جائےگا۔

لیکن اس کے علاوہ ایک اور راستہ ہے۔ وہ یہ کہ نیٹو اور پاکستان آپس میں انٹیلیجنس کا تبادلہ کرکے طالبان کے خلاف کاروائی کریں اور ایسے ہی کامیابی حاصل کریں جیسے گزشتہ دنوں پاکستان کی مدد سے تقریبا دیڑھ سو طالبان کو ہلاک کیا گیا ہے۔

نیٹو کے مطابق پاکستان کی طرف سے یہ رول بہت اہم تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے وعدے پر قائم ہے۔

اگر دونوں کے درمیان یہ تعاون جاری رہا تو پھر القاعدہ اور طالبان کے قدم اکھڑ سکتے ہیں لیکن اگر پاکستان اس پر زیادہ توجہ نہ دے اور وہ اپنے عام انتخابات کی تیاری میں لگ جائے تو پھر القاعدہ اور طالبان نیٹو کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد