BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 July, 2006, 00:33 GMT 05:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم آئی فائیو میں القاعدہ کی بھرتی
سات جولائی کو گزشتہ برس ہونے والے حملوں میں مرنے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی
القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے عناصر برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو میں بھرتی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے سکیورٹی کے معاملات پر رپورٹنگ کرنے والے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق وائٹ ہال کے حکام نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس بارے میں کافی عرصے سے شک تھا۔

حکام نے کہا کہ القاعدہ سے ہمدردی رکھنے والے عناصر کو چھ سے آٹھ مہینے تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد بھرتی ہونے والوں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کے اہلکاروں نے ایک بریفنگ میں کہا ہےکہ وہ خفیہ معلومات سے سامنے آنے والی تصویر پر سخت تشویش کا شکار ہیں۔ انہون نے کہا کہ ستر سے زیادہ کیسوں کی تحقیقات جاری ہیں اور کچھ حاصل کردہ معلومات بہت سنگین ہیں۔

میٹرو پولیٹن پولیس میں انسداد دہشت گردی شعبے کے سربراہ پیٹر کلارک نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ساٹھ افراد دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں سماعت کا انتظار کررہے ہیں۔

 ایم آئی فائیو کو ایک سروے سے علم ہوا ہے کہ برطانیہ میں مقیم چار لاکھ کے قریب مسلمانوں کو دنیا میں جاری جہاد سے ہمدردی ہے۔

پیٹر کلارک نے خبردار کیا کہ بڑی تعداد میں نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو ایک غیر معمولی بات ہے۔

فرینک گارڈنر نے کہا کہ ایم آئی فائیو کو ایک سروے سے علم ہوا ہے کہ برطانیہ میں مقیم چار لاکھ کے قریب مسلمانوں کو دنیا میں جاری جہاد سے ہمدردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں سے بارہ سو لوگ ایسے ہیں جو متحرک ہیں اور دہشت گردی سے متعلق کارروائیوں میں برطانیہ اور برطانیہ کے باہر سرگرم ہیں۔

لندن میں جمعہ کو گزشتہ سال سات جولائی کو ہونے والے بم حملوں کی پہلی برسی منائی جارہی ہے جب ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ایم آئی فائیو ان تحقیقات کو وسیع کر رہی ہے اور اب چھبیس سو اہلکاروں کی جگہ ساڑھے تین ہزار خفیہ اہلکار اس کام کے میں مدد دیں گے۔

اس کے ساتھ ہی وہ آٹھ نئے علاقائی دفاتر بھی قائم کر رہی ہے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ لوگ کیا سوچ اور کیا کر رہے ہیں۔

ایم آئی فائیو میں ملازمت حاصل کرنے کے لیئے ہر سال لاکھوں درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور ان میں صرف چار سو کے قریب افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

درخواست گزاروں کے بارے میں پہلے ایک ایجنسی اندازے لگاتی ہے اور اس کے بعد انہیں ایم آئی فائیو کے صدر دفتر لندن میں بلایا جاتا ہے جہاں پر درخواست گزاروں کے خاندانی پس منظر اور ان کی ہمدردیوں کے بارے میں چھ سے آٹھ ماہ کے عرصے میں تحقیقات کی جاتی ہیں۔

پیٹر کلارک نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تحقیقات کوگزشتہ بارہ ماہ میں تیز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفیہ اداروں کے اہلکار سات جولائی سے پہلے کے واقعات کی تشکیل کرکے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ آیا ان حملوں کے بارے میں کسی کو علم تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ کام ہے۔ ’ کیا ان حملوں میں ملوث لوگوں کی کسی نے حوصلہ افزائی کی؟ کیا کسی نے پیسے فراہم کیئے اور کیا کسی نے ان کو بم بنانے میں مدد دی؟‘

انہوں نے کہا کہ یہ تحقیقات برطانیہ اور برطانیہ سے باہر جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ساڑھے تیرہ ہزار لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیئے گئے، چھ ہزار گھنٹوں پر مشتمل’ کلوز سرکٹ ٹی وی‘ کی ریکارڈنگ حاصل کی گئی لیکن ان سب کا تجزیہ کرنا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کافی پیش رفت کر لی گئی ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کم از کم دو حملہ آور پاکستان گئے اور شک ہے کہ وہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملے اور وہاں تربیتی کیمپوں میں تربیت حاصل کی۔

پیٹر کلارک نے کہا جن علاقوں میں اس طرح کی کارروائیاں ہوتی ہیں ان علاقوں تک پاکستانی حکام اور ہمارا جانا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ ادارے سات جولائی کے بعد کم از کم تین حملوں کو ناکام بناچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو خفیہ رکھنے اور اس طرح کے مقدمات کی رپورٹنگ پر عائد قانونی پابندیوں کی وجہ سے عوام کو دہشت گردی کے خطرے کی نوعیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں
لندن بمبار کی ویڈیو جاری
02 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد