وزیرستان میں امن معاہدے پر زور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے گورنر علی محمد جان اورکزئی نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ثالثی کے ذریعے امن معاہدہ طے کروانے والی کمیٹی کو سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد کرانے کا حکم دیا ہے۔ گورنر نے یہ ہدایت پشاور میں قبائلی عمائدین پر مشتمل اکیس رکنی کمیٹی سے ملاقات کے بعد دی ہے۔ یہ کمیٹی گزشتہ برس پانچ ستمبر کو طے پانے والے امن معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیئے قائم کی گئی تھی۔ ملاقات میں کمیٹی کے اراکین، جن میں جنوبی وزیرستان سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا معراج الدین، حاجی قادر خان، مولانا عبدالمالک، ملک وارث خان شامل ہیں موجود تھے۔ ایک طرف جنوبی وزیرستان کے دورافتادہ لدھا سب ڈویژن میں فوجی کارروائی کی جا رہی تھی تو دوسری جانب صوبائی دارالحکومت پشاور میں گورنر سرحد قبائلیوں سے اس جرگے میں صورتحال پر غور کر رہے تھے۔ مولانا معراج الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ یہ اجلاس منگل کے روز نہیں طلب کیا جانا چاہیے تھا۔ گورنر سرحد نے قبائلیوں کو بتایا کہ ان کا علاقہ اس وقت تاریخ کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ادھر، پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں کل صبح فوجی کارروائی میں ہلاکتوں کے خلاف صوبے سرحد کے جنوبی شہر ٹانک میں احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں جعمیت علماء اسلام، وزیرستان کے طلباء اور مقامی آبادی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے صدر پرویز مشرف اور امریکہ کے خلاف نعرہ بازی کی اور اس کارروائی کی وجہ ڈالروں کی لالچ بتایا۔ اس دوران شہر کا بازار بھی بند رہا۔ | اسی بارے میں وزیرستان میں راکٹ باری اور قتل14 May, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان، ایک فوجی ہلاک17 May, 2006 | پاکستان جرگے کی ’طالبان‘ سے دوسری ملاقات30 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||