BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 January, 2007, 04:17 GMT 09:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ترجمان کا بیان بے بنیاد ہے‘
محمد حنیف
محمد حنیف کو منگل کے روز افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستانی حکام نے طالبان کے ایک ترجمان کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ طالبان کے رہنما ملا عمر پاکستان کے شہر کوئٹہ میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی حفاظت میں ہیں۔

منگل کے روز طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد حنیف کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹر حنیف نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ ملا عمر کو کوئٹہ میں محفوظ مقام پر رکھا گیا اور اور وہ آئی ایس آئی کی حفاظت میں ہیں۔

افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے بدھ کے روز ڈاکٹر حنیف کے اعترافی بیان کی ویڈیو تقسیم کی ہے جس میں ایک کم روشنی والے کمرے میں بیٹھے ایک شخص کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ملا عمر پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس کی سربراہی میں پاکستان شہر کوئٹہ میں ہیں۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے ڈاکٹر حنیف کے بیان کو ’بےبنیاد‘ بتایا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بھی ڈاکٹر حنیف کے اس الزام کی تردید کی کہ ملا عمر پاکستان کے شہر کوئٹہ میں موجود ہیں۔ بی بی سی اردو سروِس سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ ایسی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

طالبان کے رہنما ملا عمر کو 2001 میں طالبان کی حکومت ختم کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔

ملا عمر
ملا عمرکو 2001 کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر حنیف کا بیان ایک ویڈیو پر ریکارڈ کیا گیا اور نامہ نگاروں نے تصدیق کی کی ہے کہ اس ویڈیو میں بولنے والے شخص کی آواز محمد حنیف ہی کی ہے۔ تاہم یہ بیان کن حالات میں لیا گیا ہے اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

ڈاکٹر حنیف نے اپنے اعترافی بیان میں یہ بھی کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل افغان حکام اور نیٹو فورسز کے خلاف طالبان کی لڑائی میں ان کی حمایت کرتے ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی اس طرح کے الزامات پاکستان پر لگاتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد حنیف طالبان کے ترجمان کی حیثیت سے گزشتہ سال کافی متحرک رہے اور ذرائع ابلاغ کو افغانستان کے مشرق میں ہونے والے حالات کے بارے میں طالبان کے موقف سے آگاہ کرتے رہے تھے۔ افغانستان کے جنوب میں قاری محمد یوسف نام کے شخص محمد حنیف کی طرح کا کام انجام دیتا رہا ہے۔

دریں اثناء طالبان نے ڈاکٹر محمد حنیف کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی جگہ ذبیح اللہ مجاہد کو نیا ترجمان مقرر کیا ہے جو بہت جلد میڈیا کے ساتھ اپنا رابطہ قائم کردیں گے۔

جنوبی افغانستان کے لیے طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے ایک نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر حنیف کو پیر کو افغان اہلکاروں نے افغانستان کےصوبہ ننگرہار سے گرفتار کیا تھا البتہ انہوں نے افغان حکام کے اس دعوی کی تردید کی کہ ان کو پاکستان سے آتے ہوئے گرفتار کیاگیا ہے۔

گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
ملزمانواقعی طالبان؟
کوئٹہ میں گرفتار مشتہ افراد کون ہیں؟
طالبانطالبان کی واپسی
ایک کمانڈر کےساتھ بی بی سی صحافی کا سفر
اسی بارے میں
طالبان کے ترجمان گرفتار
16 January, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد