طالبان نے نیا ترجمان مقرر کردیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان نے ڈاکٹر محمد حنیف کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی جگہ ذبیح اللہ مجاہد کو نیا ترجمان مقرر کیا ہے جو بہت جلد میڈیا کے ساتھ اپنا رابطہ قائم کردیں گے۔ جنوبی افغانستان کے لیے طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے ایک نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر حنیف کو پیر کو افغان اہلکاروں نے افغانستان کےصوبہ ننگرہار سے گرفتار کیا تھا البتہ انہوں نے افغان حکام کے اس دعوی کی تردید کی کہ ان کو پاکستان سے آتے ہوئے گرفتار کیاگیا ہے۔ قاری یوسف کے بقول ’ترجمان مقرر ہونے کے بعد ڈاکٹر حنیف افغانستان ہی سے میڈیا کیساتھ رابطہ کیا کرتے تھے اور افغانستان ہی میں ان کی گرفتاری سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پاکستان نہیں گئے تھے‘۔ قاری یوسف کا مزید کہنا تھا کہ ان کی گرفتاری سے طالبان تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑےگا۔ان کے مطابق ’ڈاکٹر حنیف نہ ہی کوئی فوجی کمانڈر اور نہ ہی طالبان دور حکومت میں کسی خاص منصب پر فائز رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور اب نیا ترجمان یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے‘۔ نئے مقرر کردہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد میڈیا سے رابطہ قائم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ذبیح اللہ مجاہد طالبان کے پریس کمیٹی کے رکن ہے اور طالبان دور حکومت میں جنگی محاذ پر رہنے کے علاوہ میڈیا سیل میں بھی کام کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد مزاحمت کے دوران اب تک طالبان کے تین ترجمان لطیف اللہ حکیمی، استاد محمد یاسر اور ڈاکٹر محمد حنیف گرفتار ہوچکے ہیں۔ طالبان نے جنوبی اور مشرقی افغانستان کے لیے دو الگ الگ ترجمان مقرر کیے ہیں۔ |
اسی بارے میں افغان ضلع پر طالبان کا ’قبضہ‘ 15 September, 2006 | آس پاس بھنگ میں چھُپے طالبان جنگجو15 October, 2006 | آس پاس پچاس طالبان ہلاک کرنےکا دعویٰ26 October, 2006 | آس پاس افغانستان: درجنوں طالبان ہلاک 04 December, 2006 | آس پاس طالبان کمانڈر کی ہلاکت کا دعوٰی23 December, 2006 | آس پاس طالبان کے ترجمان گرفتار16 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||