BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 October, 2006, 07:00 GMT 12:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزادئ صحافت: پاکستان 157 نمبر پر

حکومت نے بلوچ قوم پرست ویب سائٹوں پر پابندی لگادی ہے
دنیا بھر میں صحافتی آزادی کے لیے سرگرم صحافیوں کی تنظیم رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز یا’سرحدوں سے ماورا صحافی‘ کی سال 2006 کے لیے جاری کی گئی رپورٹ میں کی جانے والی ترتیب یا رینکنگ کے مطابق فریڈم آف پریس یا صحافت کی آزادی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبر ایک سو ارسٹھ ملکوں میں سے ایک سوستاونواں ہے۔

رپورٹرز وداؤٹ بارڈز آزادی صحافت کے حوالے سے ملکوں کی سالانہ درجہ بندی سال دوہزار دو سےکر رہی ہے۔

دوہزار دو میں پاکستان کا نمبر ایک سو انیس، دوہزار تین میں گر کر ایک سو انتیس، سال دو ہزار چار میں مزید کم ہو کر ایک سو پچاس اور دو ہزار پانچ میں بھی ایک سو پچاس رہا۔ تاہم اس سال مسلسل نمبر گرنے کی وجہ سے پاکستان نے آر ایس ایف کی رینکنگ میں ایک سو ستاونویں پوزیشن حاصل کی۔

جبکہ بھارت، جو سال دو ہزار پانچ میں ایک سو نویں نمبر پر تھا، اس سال آزادی صحافت کے حوالے سے اپنا ریکارڈ بہتر کر کے ایک سو پانچ نمبر پر آ گیا ہے۔ آزادی صحافت کے حوالے سے آر ایس ایف کی رینکنگ کے مطابق جنگوں اور اندرونی ریشہ دوانیوں سے تباہ حال افغانستان بھی پاکستان سے نسبتاً بہتر ریکارڈ کا حامل ہونے کے سبب ایک سو تیسویں نمبر پر ہے۔

پاکستان کی رینکِنگ خراب تر
 دوہزار دو میں پاکستان کا نمبر ایک سو انیس، دوہزار تین میں گر کر ایک سو انتیس، سال دو ہزار چار میں مزید کم ہو کر ایک سو پچاس اور دو ہزار پانچ میں بھی ایک سو پچاس رہا۔ تاہم اس سال مسلسل نمبر گرنے کی وجہ سے پاکستان نے آر ایس ایف کی رینکنگ میں ایک سو ستاونویں پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ بھارت جو سال دو ہزار پانچ میں ایک سو نویں نمبر پر تھا۔
اس سال کی رپورٹ میں شمالی کوریا کا ریکارڈ آزادئ صحافت کے حوالے سے سب سے برا بتایا گیا ہے اور اسی لیے یہ فہرست میں سب سے نیچے یعنی ایک سو ارسٹھ نمبر پر ہے۔

پاکستان آزادی صحافت کے حوالے سے شمالی کوریا کے علاوہ جن ملکوں سے بہر حال بہتر ریکارڈ رکھتا ہے ان میں ایران، ترکمانستان، چین، ایریٹریا، برما، سعودی عرب، نیپال، ایتھوپیا، کیوبا اور ازبکستان جیسے ممالک آتے ہیں جہاں صحافت مجموعی طور پر سرکاری کنٹرول میں ہے۔ اس برس کی رینکنگ میں عراق کا نمبر ایک سوچون ہے۔

لبنان میں جنگ کے بعد یہ ملک چھپن نمبر سے ایک سو سات نمبر پر آگیا ہے۔ صحافتی آزادی کے حوالے سے بہتر ریکارڈ کے حامل دس سر فہرست ممالک میں فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ہالینڈ، ناروے، سوئٹزرلینڈ، سلواک ریپبلک، ایستونیہ، ہنگری اور چیک ریپبلک شامل ہیں۔

پیغمبر اسلام کے متنازعہ کارٹون شائع کرنے والے ملک ڈنمارک کا نمبر پہلے دس ممالک میں ہوتا تھا جو اس برس انیسویں نمبر پر آگیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سن دو ہزار پانچ میں متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت کے بعد بعض صحافیوں اور کارٹون بنانے والوں کو پولیس کی حفاظت میں سفر کرنا پڑتا ہے۔

برطانیہ ستائیسویں جبکہ امریکہ 53 ویں نمبر پر ہیں۔گزشتہ برس برطانیہ چوبیسویں جبکہ امریکہ چوالیسویں نمبر پر تھے۔

آر ایس ایف کے مطابق آزادئ صحافت حوالے سے فرانس، امریکہ اور جاپان کا ریکارڈ اس سال اخبارات کے دفاتر پر چھاپوں، صحافیوں سے تفتیش اور نئے پریس قوانین کے باعث خراب ہوا جس کی وجہ سے فرانس جو پچھلے سال تیسویں نمبر تھا اب پینتیسویں نمبر پر ہے۔

امریکہ نو نمبر ڈاؤن
 امریکہ گزشتہ برس کی نسبت نو نمبر نیچے چلاگیا ہے۔ اس کی وجہ صدر بش کی انتظامیہ اور میڈیا میں تعلقات میں اچانک آنے والی تبدیلی ہے۔ جاپان میں صحافیوں پر حملوں اور اخبار نیہون کیزائی کے دفتر پر مظاہرین کے آتش گیر حملے کی وجہ سے اس کا نمبر اس برس اکاون ہے۔
امریکہ گزشتہ برس کی نسبت نو نمبر نیچے چلا گیا ہے۔ اس کی وجہ صدر بش کی انتظامیہ اور میڈیا میں تعلقات میں اچانک آنے والی تبدیلی ہے۔ جاپان میں صحافیوں پر حملوں اور اخبار نیہون کیزائی کے دفتر پر مظاہرین کے آتش گیر حملے کی وجہ سے اس کا نمبر اس برس اکاون ہے۔

آر ایس ایف کے مطابق آزادی صحافت کی یہ درجہ بندی صحافیوں اور نیوز میڈیا آرگنائزیشنز کو درپیش مسائل کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ان مسائل میں پُرتشدد کارروائیاں، قید و بند اور آزادی اظہار پر پابندیاں وغیرہ شامل ہیں۔

مزید برآں پریس کو خاموش کرانے کے لیے قانون سازی، ریاستی اجارہ داری اور میڈیا ریگولیٹری باڈیز کا قیام وغیرہ کو بھی کسی ملک میں آزادی صحافت کی صورتحال کا تعین کرنے کے حوالے سے خاص طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس حوالے سے حکام کا ریاستی سرپرستی میں چلنے والے میڈیا اور غیرملکی پریس کے ساتھ رویے کا بھی موازنہ کیا جاتا ہے۔

تاہم آر ایس ایف کے مطابق آزادی صحافت کی رینکنگ کا متعلقہ ممالک میں صحافت کے میعار سے کوئی تعلق نہیں۔

رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کی کینیڈا میں انچارج ایملی جیکوا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کے ایران اور پاکستان کے علاوہ کئ جنوبی ایشیائی ممالک سے صحافی کینیڈا کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان صحافیوں کو اظہار رائے کی آزادی میسر نہیں ہے۔ ’اگر ان صحافیوں کو ان کے اپنے ممالک میں آزادی صحافت ہو تو ان کو جلاوطنی کی زندگی نہیں گزارنی پڑے گی۔‘

بلوچ ویب سائٹ
بلوچ قوم پرستوں کی تحریک انٹرنیٹ پر
بلوچ ویب سائٹویب سائٹیں بند
باغیانہ مواد کی اجازت نہیں دے سکتے: وزیر
صحافتی آزادیاظہار کی آزادی
پاکستان کا ریکارڈ 149 ملکوں سے خراب
آزادی صحافت کا دن
تین مئی: آزادی صحافت کا عالمی دن
پاکستانی پریسپاکستانی پریس سے
مبینہ دہشتگردی منصوبہ کی پاکستانی کوریج
تیمور خان کیس
سی پی جے نے پاکستان کو خطرناک قرار دے دیا
میڈیا کی آزادیاے آر وائی پر بندش
اظہار کی آزادی پولیس کے رحم و کرم پر؟
اسی بارے میں
صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ
22 December, 2003 | پاکستان
مشرف حکومت پر تنقید
03 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد