BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 July, 2004, 11:26 GMT 16:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویج بورڈ تنازعہ:کمیٹی قائم

اخبارات
اخباری ملازمین اور مالکان کا یہ تنازعہ کئی برسوں سے جاری ہے
پاکستان میں اخباری ملازمین اور مالکان کے درمیاں اجرتوں کے نئے سرے سے تعین کے بارے میں دو برسوں سے جاری تنازعہ حل کرانے کے لیے حکومت نے پانچ وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔

کمیٹی بنانے کا فیصلہ وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی زیر صدارت کابینہ کے پہلےاجلاس میں ہوا ہے۔

یہ کمیٹی دس روز کے اندر فریقین کے نمائندوں سے مل کر وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی کابینہ کو رپورٹ دے گی۔

کمیٹی کے سربراہ وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد ہوں گے جبکہ اراکین میں وزیر خزانہ شوکت عزیز، وزیر مذہبی امور اعجاز الحق، وزیر پیٹرولیم نوریز شکور اور وزیر برائے ہاؤسنگ سید صفوان اللہ شامل ہیں۔

وزیراطلاعات نے کہا ہے کہ اگر کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تو اس صورت میں کابینہ قومی اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور کردہ قرارداد پر فیصلہ کرے گی جس میں کہا گیا تھا کہ سرکاری اشتہارات صرف ان اخبارات کو جاری کیے جائیں جو ساتویں اجرت ایوارڈ پر عمل کریں ۔

اخباری ملازمین کی اجرتوں کے تعین کے متعلق ’ ویج ایوارڈ‘ کا معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ سن انیس سو تہتر میں پارلیمینٹ سے منظور کردہ قانون ’نیوز پیپرز ایمپلائیز( کنڈیشنز آف سروس ) ایکٹ‘ کے مطابق ہر پانچ سال کے لیے پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات، خبر رساں ایجنسیوں اور جرائد میں کام کرنے والے ملازمین کی اجرتوں کا تعین ہوتا ہے۔

اجرت کے تعین کے لیے حکومت سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں بورڈ قائم کرتی ہے جس میں اخباری مالکان اور ملازمین کے مساوی نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ اس بورڈ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔ ’ویج بورڈ‘ ملک کے مختلف شہروں میں کھلی سماعت کرتا ہے اور فریقین کے موقف سننے کے ساتھ شہادتیں قلم بند کرکے پانچ برسوں میں مہنگائی کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے کم سے کم اجرتوں کا تعین کرتا ہے۔

ساتواں ویج ایوارڈ نافذ کرنے کے لیے اکتوبر دو ہزار ایک میں نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا اور پچھلے تین سال سے اخباری مالکان اور ملازمین میں اس پر تنازعہ جاری ہے۔

اس دوران ملازمین نے متعدد بار مظاہرے اور جلسے جلوس نکالے ہیں جبکہ اخباری مالکان نے اپنے اخبارات میں اس سے متعلق اشتہار شائع کیے۔

گزشتہ اکتیس برسوں میں اب تک سات ویج ایوارڈ دیئے جا چکے ہیں۔

پہلے تو بڑے اخبارات کے مالکان ان پر عمل کیا کرتے تھے لیکن پانچویں ایوارڈ آنے کے بعد سے اخباری مالکان نے اعتراضات اٹھانا شروع کیے کہ غیر صحافیوں یعنی نائب قاصد ، ڈرائیور ، کلرک اور دیگر ملازمین کو ویج ایوارڈ سے علیحدہ کیا جائے۔

ویج ایوارڈ کا تنازعہ، اس کی مختصر تاریخ اور موجودہ صورتحال کے مندرجہ بالا تذکرے کے بعد اگر تھوڑی نظر پاکستان میں میڈیا کے ساتھ حکمرانوں کے سلوک پر ڈالیں تو بعض مبصرین کہتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان سے لے کر جنرل محمد ضیاءالحق تک فوجی حکمرانوں نے میڈیا پر پابندیاں ہی عائد کیں جبکہ مبینہ جمہوری ادوار میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے میاں نواز شریف تک جو بھی حکمران آئے ان کا دامن بھی میڈیا کا بازو مروڑنے کے الزامات سے صاف نہیں رہا۔

پاکستانی میڈیا تمام ادوار میں بالواسطہ یا بلا واسطہ زیر عتاب رہا ہے۔ماضی بعید یا قریب پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اخباری مالکان کی تنظیم ’ اے پی این ایس، کے بعض حضرات ایوان صدر یا وزیراعظم ہاؤس کی کرسی پر بیٹھنے والے ہر شخص کی تعریف میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ اخباری مالکان کے ساتھ ساتھ بعض اخباری ملازمین کی تنظیموں کے گروہ بھی مالکان سے اس کار خیر میں پیچھے نہیں رہے لیکن بیشتر تنظیمیں فوجی حاکموں کی مخالف ہی رہی ہیں ۔

اب صورتحال ماضی کے برعکس پیدا ہوچکی ہے۔ آج کل پاکستان میں اخباری ملازمین کی کم بیش سب ہی تنظیمیں فوجی حاکم صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے’ زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہی ہیں جبکہ اخباری مالکان کی تنظیم بقول ان کے آزادی صحافت کی جنگ لڑ رہی ہے۔

ایسی صورتحال میں مورخ بھی شاید تھوڑا پریشاں ہو کہ اسے وہ سانحہ لکھے کہ حادثہ، حکمرانوں کی چالاکی یا اخباری ملازمین کی تنظیموں کے رہنماؤں کی کم فہمی، ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تو ان کو لکھنا ہی ہے جس کے لیے ہمیں مستقبل کا انتظار کرنا پڑے گا۔بہر حال یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں پہلی بار ایسے ہوا ہے کہ کسی حکمران نے اخباری مالکان کے بجائے ملازمین کے حقوق کی کھل کر بات کی ہو۔

حکمرانوں کے نعرے تو بج بھی رہے ہیں اور لگ بھی رہے ہیں لیکن یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ کیا واقعی حکومت اخباری مالکان اور ملازمین کے درمیاں مصالحت کرائے گی یا وہ محض ’ لڑاؤ اور حکومت کرو‘ کے مسلحت سے یہ کام کر رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد