| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی سائنسدان اور پاکستانی میڈیا
پاکستان میں ایل ایف او کا قضیہ تھما ہی تھا کہ ڈی بریفنگ بکھیڑا پھیل گیا۔ ایٹمی سائسندانوں کی حراست اور ان سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر پوچھ گچھ پر میڈیا میں حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور اگلے روز وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بھی کہا کہ میڈیا مسائل پیدا کررہا ہے۔ پاکستان میں کثیرالاشاعت اخبارات اردو زبان میں شائع ہوتے ہیں اور ان میں چھپنے والے مضامین اور کالموں میں غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ایٹمی سائنسدانوں کی حراست اور تفتیش پر حکومت کو دل کھول کر برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ روزنامہ جنگ کے ایک کالم نگار جاوید چودھری نے منگل کے روز اپنا کالم ان جملوں پر ختم کیا، جنھیں اردو اخبارات میں چھنے والی آراء کا نمائندہ کہا جاسکتا ہے۔ جاوید چوہدری لکھتے ہیں: حیرت ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان یں ایٹم بم بنایا وہ آج اپنے ہی سائے سے ڈر رہے ہیں لیکن ہندوستان میں بم بنانے والے کرسی صدارت پر بیٹھے ہیں۔ جنگ کے مدیر ارشاد احمد حقانی نے اپنے کالم میں صدر مشرف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے قوم سے خطاب کریں۔ان کی رائے ہے کہ حکومت کے اقدامات کے خلاف وسیع عوامی رد عمل، اندیشے ، وسوسے اور شکوک شبہات پائے جاتے ہیں۔ روزنامہ نوائے وقت کی اس معاملہ کی کوریج ایسی ہے جس سے اس معاملہ پر اخبار کی حکومت کی مخالفت بہت نمایاں ہے۔ مثلاً اخبار نے ہفتہ کے روز پہلے صفحہ پر شہ سرخی لگائی کہ ایٹمی سائنسدانوں کی تذلیل پر ملک بھر میں مظاہرے۔ اس خبر کی سرخی میں لفطوں کا استعمال ہی اخبار کی رائے ظاہر کرتا ہے۔ اخبار نے اتوار کو اپنے اداریہ میں لکھا کہ حکومت پاکستان کو ڈی بریفنگ کا سلسلہ بند کردینا چاہیے، یہ محض پاکستان کو سزا دینے اور بالآخر اس کے ایٹمی و میزائیل پروگرام کو امریکی تحویل میں دینے کی سازش ہے۔ اردو اخبارات میں کڑی تنقید اور مخالف رائے عامہ کے زور کو کم کرنے کے لیے لگتا ہے کہ حکومت نے بھی چند روز سے میڈیا مینجمینٹ شروع کی ہے اور ایسی خبریں بھی اخبارات میں شائع ہونے لگی ہیں جن سے حکومت کے اقدامات کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ روزنامہ جنگ نے دو روز پہلے صفحہ اول پر بینر سرخی کے ساتھ یہ خبر شائع کی کہ ایٹمی سائنسدانوں سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کا پتہ چل گیا ہےاور یہ بھی کہ ان اکؤنٹس میں دو سائنسدانوں کے کروڑوں ڈالر جمع ہیں۔
یہ خبر ذرائع کے حوالے سے شائع ہوئی ہے اور اس بات کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا اور جن پر الزام لگایا گیا ہے انکا موقف بھی نہیں دیا گیا۔ نوائے وقت نے منگل کی اشاعت میں نمایاں طور پر خبر شائع کی ہے جسے کسی سے منسوب نہیں کیاگیا کہ پاکستان کے سٹریٹجک دفاعی پروگرام کے مختلف حصوں پرکامیابی سے پیشرفت جاری ہے اور اس پروگرام کے تحت ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مختصر فاصلہ تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل غزنوی کی باقاعدہ پیداوار شروع کرکے اسے فوج کے حوالے کیا جارہا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ غزنوی میزائیل تباہ کن مواد کو پانچ سوکلومیٹر تک لے جاسکتا ہے اور اس کے دو تجربات کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوسرے مختصر فاصلےکے میزائل ابدالی کو جدید گائڈنس کے نظام سے مسلح کیا جارہا ہے۔ اس خبر کو پڑھنے سے لگتا ہے کہ حکومت پر ایٹمی پروگرام کے حوالے سے جو شبہات پیدا ہوگئے ہیں انھیں دور کرنے کے لیے کسی سے منسوب کیے بغیر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ حکومت ایٹمی پروگرام اورمئزائیلوں کو مزید ترقی دے رہی ہے اور ڈی بریفنگ کا مطلب ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ نہیں ہے۔ منگل کے روزنامہ جنگ میں ہی ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ ماضی میں ہندوستان سمیت دوسرے بہت سے ملکوں نے بھی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاملہ پر اپنے سائنسدانوں سے ڈی بریفنگ کی ہے گویا پاکستان میں اگر ایسا ہورہا ہے تو یہ انوکھی بات نہیں۔اس خبر کا ذریعہ کیا واضح نہیں کیا گیا۔ اخبارات میں ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ پر اٹھنے والے مخالفت کے طوفان کے سامنے حکومت کی کوششیں کہاں تک کامیاب ہوتی ہیں اس کا پتہ تو وقت کے ساتھ ہی چلے گا۔ تاہم سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے متنازعہ ریفرنڈم کے بعد یہ پہلا ایسا بڑا معاملہ ہے جس پر جنرل پرویز مشرف کو شدید مخالف رائے عامہ کا سامنا ہے اور جس نے ایل ایف او کے تنازعہ کو بھی کہیں دور پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ اب پاکستان میں جو سیاست ہوگی اس کا سب سے اہم نکتہ شائد ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||