| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدان: اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اسلام آباد میں اپنے نامہ نگار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پاکستان میں زیر حراست جوہری سائنسدانوں اور خان ریسرچ لیبارٹریز کے دوسرے ملازمیبن کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ان لوگوں سے جوہری پھیلاؤ کے بارے میں پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک تیرہ سائنسدانوں اور ملازمین سے تفتیش کی گئی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک افسر جس نے اے پی کے بقول اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ زیر حراست افراد کے بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کیونکہ تحقیق کاروں کو شبہ ہے کہ ایک سائنسدان اور ایک دوسرے ملازم نے ذاتی مفاد کی خاطر جوہری راز کسی دوسرے ملک کو دیئے ہیں۔ دریں اثناء وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اے پی کو بتایا ہے کہ اس معاملے کی ہر زاویہ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جس میں مالی پہلو بھی شامل ہے۔ ادھر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاون سیکرٹری رابرٹ آیئن ہارن کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر عالمی برادری جوہری پھیلاؤ کے الزام میں مطلوب افراد کی فہرست تیار کرے تو اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام سب سے اوپر ہوگا۔ اے پی کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر کے ایک قریبی رفیق اور ’اسلامی بم‘ نامی کتاب کے مصنف زاہد ملک کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیقات کے دوران ڈاکٹر قدیر سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے تاہم وہ مطمئن ہیں کہ ان کے ہاتھوں کوئی غلط کام نہیں ہوا ہے۔ دریں اثناء وزیر اطلاعات شیخ رشید نے بتایا ہے کہ کے آر ایل کے ایک سائنسدان سعید منصور احمد کو ہفتے کی رات چھوڑ دیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||