| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ
پاکستان میں صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنسلٹس (پی ایف یو جے) نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکیوں سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار کئے جانے والے دو فرانسیسی صحافیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ فرانسیسی صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ پی ایف یو جے کے صدر احفظ الرحمان نےکراچی سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فرانسیسی صحافی پیشہ ور اور اعزاز یافتہ صحافی ہیں اور وہ باقاعدہ ویزا حاصل کرکے پاکستان آئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان صحافی کی رہائی کے لیے اسلام آباد میں فرانسیسی سفارت خانے نے بھی حکام سے رابط قائم کیا ہے۔ نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نامی بین الاقوامی تنظیم نے بھی ان صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان صحافیوں نے نودسمبر سے بارہ دسمبر تک کوئٹہ میں قیام کے دوران پنکئی کے علاقے میں طالبان کا بھیس دھارے ہوئے افراد کی ویڈیو فلم بنائی تھی۔ تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں نے چودہ دسمبر کی رات قلعہ عبداللہ کے علاقے پنکئی اور پشین میں چھاپے مار کر دو افراد عبداللہ شاکر اور سیداللہ نور کو گرفتار کرلیا تھا۔ جبکہ پنکئی کا ایک رہائشی حاجی کوبات فرار ہو گیا تھا جس کی گرفتاری کے لیے کوششیں تا حال جاری ہیں۔ یہاں آمدہ اطلاعات کے مطابق ان تینوں افراد نے فرانسیسی صحافیوں کو جعلی ویڈیو فلم بنانے میں مدد دی تھی جس کے عوض فرانسیسی صحافیوں نے بڑی رقم دی تھی۔ لیکن بعد میں رقم کے لین دین پر ان میں اختلافات پیدا ہو گیا تھا۔ عبداللہ شاکر کافی عرصہ سے کوئٹہ میں کام کرتے رہے ہیں اور ایک اخبار سے بھی وابستہ رہے بعد میں وہ راولپنڈی منتقل ہو گئے ۔ راولپنڈی کے ایک رہائشی کے ذریعے ان کی ملاقات فرانسیسی صحافیوں سے ہوئی جہاں مبینہ طور پر ویڈیو فلم بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ ویڈیو فلم میں پنکئی کے مقامی افراد نے طالبان کا بھیس دھارا ہوا تھا جو مختلف قسم کا اسلحہ تیار کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ محتلف قسم کی گوریلا کارروائیوں کی تیاری کرتے ہوئے بھی دکھائے گئے ہیں۔ ان افراد نے سفید پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں اور لمبی لمبی قمیضیں پہنی ہوئی تھیں۔ بلوچستان میں طالبان کی پہچان مقامی لوگ آسانی سے کر لیتے ہیں فلم میں دکھائے گئے افراد حلیے سے بھی طالبان نظر نہیں آتے تھے۔ عبداللہ شاکر نے گرفتاری کے بعد قومی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اس نے یہ کام پیسوں کی لالچ میں کیا تھا۔ دریں اثنا گرفتار شدہ فرانسیسی صحافیوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کر دی ہے۔ کراچی سے صحافی مظہر عباس کے مطابق فرانسیسی میگزین لایکسپریس کے لئے کام کرنے والے دوصحافی مارک ایپستیں اور ژاں پال جیلوتو نے پیر کے روز اپنے وکیل نفیس صدیقی کی وساطت سے ایک خط جاری کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ پیشہ ور صحافی ہیں لیکن ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جس کے خلاف احتجاج کے طور پر وہ بھوک ہڑتال پر جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال کے دوران صرف پانی پئیں گے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کھائیں گے۔ انہوں نے پاکستان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ دریں اثناء فرانسیسی صحافیوں کے وکیل نفیس صدیقی نے ان کی ضمانت کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ یادرہے کہ کراچی کی ایک عدالت پہلے ہی ان صحافیوں کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||