طالبان کے ساتھ وہ دن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(یہ پاکستانی طالبان کے ساتھ گزارے ایک دن کی دوسری اور آخری قسط ہے) جنوبی وزیرستان میں پاکستان فوج کی بمباری سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کوٹ کلے میں آباد تھے۔ علاقے کی مسجد کافی رنگا رنگ دلکش اور صاف ستھری تھی۔ ہمارے آنے سے قبل ہی درجنوں بڑے بوڑھے جمع تھے۔ ہر ایک سے مصافحہ اور گلے ملنا مقامی روایت ہے۔ اس موقع پر موجود تمام قبائلی اور مقامی طالبان اس بات پر یک زبان تھے کہ مارے جانے والے آٹھ اور مقامی تھے۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ ایسے دور افتادہ خطے میں کسی کے آنے سے قبل لاشیں خاموشی سے کسی اور جگہ با آسانی منتقل کی جاسکتی تھیں۔ غصے سے بپھرے ہوئے میر شاہ اعظم کا کہنا تھا کہ یہ سب جھوٹ اور ناممکن ہے۔ مہمان داری بھی اس علاقے کی ایک اور لازمی روایت ہے۔ ایک لڑکے نے انتہائی خوبصورت رنگین ٹوکری میں چائے کے کپ پیش کیے۔ چائے بھی ان لوگوں کے پیار کی طرح انتہائی میٹھی تھی جس سے انکار ممکن نہیں تھا۔
خاطر تواضع کے بعد اس مقام کی جانب روانہ ہوئے جہاں انیس جنوری کی صبح پاکستانی فوج نے القاعدہ کے ایک ٹھکانے کو تباہ کرنے کا دعوی کیا تھا۔ وہاں پہنچے تو خود مقامی قبائلیوں کو اس بات پر تقرار کرتے پایا کہ آخر اس جگہ کا اصل نام کیا ہے۔ کوئی اسے زمزولہ، کوئی سلامت ژوڑ، کوئی ہمزولہ اور کوئی اسے کوٹ کلے قرار دیتا ہے۔ وہاں تباہی کا منظر دیکھا، غصے کے بھرے قبائلیوں سے بات ہوئی اور قبائلیوں کے اصرار پر دور کسی پہاڑ پر وہ لکڑیاں بھی دیکھیں جب بقول ان قبائلیوں کے یہ لکڑ ہارے کاٹتے تھے۔ ان پہاڑوں کو مری یا گلیات کی طرز کے اونچے تو نہیں لیکن قدرے درمیانے قد کے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ حملے کا مقام دیکھنے کے بنیادی کام سے فارغ ہو کر میں نے مقامی طالبان کے رہنما بیت اللہ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جواب تھا اس کے لیے آپ کو یہاں رات گزارنا ہوگی۔ ایک انتہائی طاقتور واکی ٹاکی اٹھائے ذوالفقار کا کہنا تھا کہ’ہمیں انہیں تلاش کرنا ہوگا وہ آج کل کافی مصروف ہیں۔‘ میں یہ سوچ کر راضی ہوگیا کہ روز روز کون قبائلی علاقوں میں آتا ہے۔ واپسی پر واکی ٹاکی پر طالبان اپنے ساتھیوں سے رابطے میں رہے۔ وہ کبھی کبھی چھوٹا اینٹینا تبدیل کر کے اس کی جگہ کافی لمبا لگا دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھی اردگرد پہاڑی چوٹیوں پر موجود رہتے ہیں اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتے ہیں۔ ایک دو مقامات پر ہمارے ساتھ موجود طالبان نے بھی ان سے بات کی۔ وو پشتو میں دریافت کرتے ’انقلابی انقلابی اے۔‘ میرعلی واپسی کا سفر وقفہِ نماز اور ایک گاڑی کا ٹائر نکل جانے کے علاوہ معمول کا رہا۔ گھپ اندھیرے میں گاڑی خیسور کے اس علاقے میں خراب ہوئی جہاں نوجوان قبائلی صحافی حیات اللہ کی لاش گزشتہ برس ملی تھی۔ ایک صحافی راکٹ کا ایک پرزہ ساتھ لے کر آیا تھا۔ اس کا نٹ لگانے کے علاوہ بہت کوشش کی لیکن ٹائر نہ جڑنا تھا نہ جڑا۔ آخر تین گاڑیوں کے مسافروں کو دو میں جگہ کرنی پڑی۔ ذوالفقار کی ان کچے پتھریلے راستوں پر ڈرائیونگ قابل ذکر ضرور ہے۔ اس کی تیزی میں گاڑی پر گرفت اس کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ ’ارے میں تو بڑے آرام سے جا رہا ہوں۔ ان راستوں پر ہماری سو کلومیٹر رفتار تو معمول کی بات ہے۔ افغانستان میں تو کارروائیوں کے دوران اسی رفتار کی ضرورت پڑتی ہے۔‘ ا ن سے پوچھا ان مشکل راستوں پر اس رفتار سے چلنے کے بعد یہ مقبول ٹویوٹا ڈبل کیبن کتنا عرصہ چل جاتی ہے تو ذوالفقار نے بتایا صرف آٹھ یا نو ماہ۔ ان کے انداز ڈرائیونگ کو دیکھ کر مجھے شک کرنے کی ہمت نہیں پڑی۔ شاید ہمارے چبھتے سوالات سے بچنے کی خاطر طالبان باقی راستے ہم سے معمے حل کرواتے رہے۔ ’ایک ڈرم میں آٹھ لیٹر، دوسرے میں تین جبکہ چوتھے میں پانچ لیٹر تیل آتا ہے۔ انہیں کس طرح تقسیم کریں گے کہ دو میں چار چار لیٹر برابر آجائیں۔’ خیر جواب تو خالی پیٹ پر نہیں سوجھ رہے تھے تاہم سفر اچھا کٹ گیا۔ اللہ اللہ کر کے میر علی رات نو بجے پہنچے تو گھپ اندھیرا اور بازار مکمل طور پر بند۔ ایک ہوٹل میں کھانا کھایا اور باقی صحافیوں سے اجازت لی کیونکہ بیت اللہ سے انٹرویو صرف بی بی سی کے لیے تھا۔ تقریباً آدھی رات کے وقت میران شاہ روانہ ہوئے تو راستے میں ایشا چیک پوسٹ پر ایک سپاہی نے گاڑی کی جانب دیکھے بغیر ہی چین کھول دی۔ رات ایک کمرے میں دس دیگر طالبان کے ساتھ گزاری۔ صبح طالبان سے تو نماز قضا ہوگئی تاہم ہم نے پھرتی دکھاتے ہوئے پڑھ لی۔ حلوے کا ناشتہ ہوا اور بیت اللہ سے ملاقات کے لیے تیاری شروع ہوئی۔ گاڑی میں بیٹھے تو کسی شخص نے میلا سا نیلا شاپنگ بیگ انہیں تھما دیا۔ ذوالفقار نے بتایا کہ ’اللہ اس طرح ان کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ پانچ لاکھ روپے ہیں۔‘ پوچھا کس نے دیے تو اس کا مختصر سا جواب تھا ’کسی اللہ کے بندے نے۔‘
بیت اللہ سے ملنے ان کے مرکز پہنچے۔ سیاہ داڑھی اور درمیانے قد کے بیت اللہ ایک بڑے سے کمرے میں موجود تھے۔ کمرے کی دیواروں کے ساتھ چارپائیاں لگی تھیں جبکہ درمیان میں ’بخاری’ رکھا تھا۔ ہم بیت اللہ کے ساتھ اس بخاری کے قریب ہی زمین پر بچھے ایک نئے رنگین لحاف پر بیٹھ گئے۔ کمرے میں بیت اللہ کے کئی دیگر ساتھی بھی موجود تھے۔ یہ میری بیت اللہ سے دوسری ملاقات تھی۔ اس سے دو برس قبل ان سے اس وقت ملاقات ہوئی تھی جب وہ حکومت سے سراروغہ کے مقام پر ایک امن معاہدے پر دستخط کے لیے جا رہے تھے۔ آج وہ اس معاہدے سے دور ہٹتے دکھائی دے رہے تھے۔ بیت اللہ سے بات چیت سے محسوس ہوا کہ اس شخص کے ذہن پر صرف اور صرف ’جہاد’ ہی حاوی ہے۔ ایک گھنٹے کے انٹرویو کے دوران انہوں نے کئی قرآنی آیات کا ذکر کرکے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلامی ممالک سے قابض افواج کو نکالنا انتہائی ضروری ہے۔ ’اللہ تعالی نے قرآن میں چار سو اسی مقامات پر جہاد کا حکم دیا ہے۔ ہم تو صرف اس کا حکم پورا کر رہے ہیں۔ صرف جہاد ہی دنیا میں امن لاسکتا ہے۔‘ مقامی جنگجوؤں کے سربراہ نے ماضی میں بھی اور اب بھی افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ’ہم نے کبھی بھی جہاد سے انکار نہیں کیا ہے۔ ہم یہ کرتے رہے ہیں، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔‘ ان سے پوچھا کہ ایک امریکی جنرل وزیرستان میں سابق طالبان وزیر جلال الدین حقانی کے بطور طالبان کے منتظم مقرر ہوئے ہیں تو انہوں نے اس سے انکار کیا۔ تاہم بعد میں ان کا انٹرویو سنتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ ان سے پوچھنا چاہیے تھا کہ ’جب سے ہم اسلامی امارات سے مربوط ہوئے ہیں‘ کے جملے سے ان کی مراد کیا ہے۔ ماضی میں بعض عناصر ملا محمد عمر کی جانب سے حقانی کی پاکستان میں تقرری کی خبر کو یہاں اسلامی ریاست کے قیام سے تعبیر کرتے تھے۔ تاہم اس کی حکومت اور طالبان سب تردید کرتے ہیں۔ سیرحاصل گفتگو اور پرتکلف چائے کے بعد ہم نے واپسی کے لیے اجازت طلب کی تو بیت اللہ نے قلم کی شکل کا عطر دان اور ’جہاد کیوں ضروری ہے‘ سے متعلق ایک اردو کی کتاب بطور تحفہ پیش کی۔ واپسی پر سڑک کنارے سفید تازہ قبروں کے بارے میں ذوالفقار سے دریافت کیا جن پر سفید طالبان کے چھوٹے چھوٹے پرچم لہرا رہے تھے۔ ’یہ ہمارے افغانستان میں شہید ہونے والے ساتھی ہیں۔‘ اجازت لیتے وقت ذوالفقار نے کہا آپ خوش قسمت ہیں۔ پوچھا وہ کیسے تو کہنے لگا ہماری تحویل میں ہمارے قیدیوں کو معلوم ہی نہیں پڑتا کہ وہ قید میں ہیں۔ خوب آزاد گھومتے ہیں۔ ہمیں تاہم یقین ہے کہ ان کے ساتھ گزارا ایک دن قید ہرگز نہیں تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||