وزیرستان: طالبان کیساتھ ایک دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرپٹ بھاگتی ایک سرخ ڈبل کیبن گاڑی بریکوں کے کرخت شور میں ہمارے قریب آکر رکتی ہے۔ سیاہ شیشے اترتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گاڑی میں گنجائش سے زیادہ لمبی داڑھیوں اور بالوں والے ٹھونسے ہوئے ہیں۔ یہی حالت اس گاڑی کی پشت پر بھی دیکھی جاسکتی تھی۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے مسلح جنگجو ایک دوسرے سے چپکے ہوئے تھے۔ سب کی عمریں بیس سے پچیس سال سے زیادہ نہیں تھیں۔ ’یہیں ہمارا انتظار کریں۔ ہم واپس آ رہے ہیں‘۔ اس طاقتور فور بائی فور گاڑی کو چلانے والے نوجوان نے ہمیں دیکھتے ہوئے ہدایت جاری کی۔ گاڑی اسی تیزی سے غائب ہوگئی جس تیزی سے وہ آئی تھی۔ بازار کے لوگ تعجب سے یہ سارا معاملہ دیکھ رہے تھے اور شاید سوچ رہے ہوں گے کہ بغیر داڑھی کے لوگوں کا مقامی طالبان سے کیا لینا دینا ہے۔ یہ ہے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کا چھوٹا سا قصبہ میرعلی اور ان مسلح نوجوانوں کا تعلق جنگجو بیت اللہ محسود کے گروپ سے تھا۔ بیت اللہ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں مقامی طالبان کے سربراہ ہیں۔ بیت اللہ محسود بھی اپنے اور دیگر علاقوں میں افغانستان میں طالبان کی تحریک سربراہ ملا محمد عمر کی طرز کا اثر رکھتے ہیں۔ دونوں میں کئی باتیں مماثلت بھی رکھتی ہیں۔ دونوں افغانستان کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں، ’اسلامی نظام‘ کے نفاذ کے خواہاں ہیں، دونوں تصاویر کے مخالف ہیں لہذا ان کی کوئی تصویر نہیں اور دونوں ایک جگے سے دوسری جگہ چُھپتے پھرتے ہیں۔ بیت اللہ محسود نے چند صحافیوں کو دو روز قبل پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے میں القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانے پر بمباری کے مقام کے دورے کے لیے مدعو کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندے خود آکر دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ ہلاک ہونے والے القاعدہ کے ارکان تھے یا عام قبائلی۔ حکومت اور قبائلی مرنے والوں کی تعداد پر تو متفق ہیں لیکن یہ کون تھے اس پر نہیں۔ حکومت انہیں دہشت گرد جبکہ مقامی لوگ انہیں عام قبائلی قرار دیتے ہیں۔
مسلح طالبان تھوڑی دیر بعد واپس لوٹے، گاڑی سے اترے اور سلام دعا کرنے لگے۔ ان میں سے ایک کڑیل نوجوان نے جو بظاہر اس گاڑی میں سوار طالبان کا سربراہ دکھائی دیتا تھا، مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’امیر صاحب (بیت اللہ) نے بھی اپنا سلام بھیجا ہے۔ آپ ہمارے پیچھے آئیں‘۔ میں نے بغیر کسی سوال کے ان کے حکم کی تکمیل شروع کر دی۔ وہ میر علی کے جنوب میں خیسور کے علاقے کو جانے والی سڑک پر روانہ ہوگئے۔ یہ پتلی سڑک ابتداء میں پختہ لیکن بعد میں کچے ٹریک میں تبدیل ہوگئی۔ علاقے میں آزادی سے گھومنے والی مقامی طالبان کی گاڑیوں کی چند نشانیاں ہیں۔ ان کی چھت پر سرخ یا نیلی ایمرجنسی لائٹ، سیاہ شیشے اور پشت پر پشتو میں جہاد کے حق میں پرجوش شعر درج ہوتے ہیں۔ ہمارے آگے چلنے والی گاڑی کا بھی کچھ یہی حال تھا۔ پشت پر لکھے شعر کا مطلب کچھ یوں تھا: ’میں کسی اور کے آگے سر جھکا نہیں سکتا کیونکہ دن میں پانچ مرتبہ ایسا کرتا ہوں‘۔ ہمارے ایک ساتھی نے گاڑی میں موسیقی لگانے کا تقاضہ کیا تو ڈرائیور نے یہ کہہ کر اسے ٹوک دیا کہ یہاں ’دفعہ 144‘ نافذ ہے، اس سے مراد یہ کہ طالبان نے علاقے میں موسیقی پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس سفر کو دلچسپ بنانے کے لیے میں نے طالبان کے ساتھ ان کی گاڑی میں سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ طالبان بخوشی اس پر راضی ہوگئے۔ پچھلی نشست پر پڑی ایک کلاشنکوف ہٹاتے ہوئے ایک طالب نے فخریہ انداز میں بتایا کہ یہ انہوں نے افغانستان میں امریکیوں سے چھینی تھی۔ ’یہ امریکہ میں بنی کلاشنکوف ہے‘۔
ان کی گاڑی میں داخل ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے اسلحے کے کسی ڈپو میں آ بیٹھا ہوں۔ گاڑی میں سات آٹھ طالبان کے علاوہ دو راکٹ لانچر، ایک بھاری مشین گن اور ہر طالب کے پاس ایک عدد کلاشنکوف تھی۔ اگلی دو نشتوں کے ساتھ دستی بم اور گولیوں کے ان گنت راؤنڈ پڑے تھے۔ قدرے زیادہ عمر کے طالب نے بتایا کہا کہ انہیں یہ اسلحہ ہر وقت ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔ ’آپ کو معلوم ہے کچھ بھی کسی وقت بھی ہوسکتا ہے‘۔ ان سے زیادہ شاید اس بات کا خوف مجھے تھا۔ گاڑی میں میرے ساتھ ایک لنگڑاتا طالبان بھی بیٹھا تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے افغانستان میں ٹانگ میں گولی لگی تھی جس کے بعد اسے راڈ ڈلوانا پڑا۔ تاہم اس قدرے معذوری سے اس کے چلنے پھرنے اور پھرتی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ تھوڑے دور چل کر طالبان کے ساتھ گپ شپ سے ماحول دوستانہ ہوگیا۔ گاڑی میں سوار طالبان کے سربراہ ذوالفقار محسود نے بتایا کہ ان کے امیر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو حقائق دکھانا چاہتے ہیں۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ آپ خود دیکھیں کہ پاکستان ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے‘۔ محسود علاقے میں جنگجوؤں نے حکومت کے ساتھ کافی طویل لڑائی کے بعد دو برس قبل امن معاہدہ کیا تھا تاہم شمالی وزیرستان میں یہ معاہدہ گزشتہ برس ستمبر میں طے پاسکا۔ اس معاہدے کے بعد سے مقامی عسکریت پسندوں کی علاقے پر گرفت بظاہر مضبوط ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب آزادانہ طور پر گھوم پھر سکتے ہیں۔ نیم فوجی ملیشیا اور خاصہ دار صرف اپنی چند چوکیوں تک ہی محدود تھے تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے کوئی گشت نہ دیکھی۔ سرسبز وادیوں اور خشک پہاڑوں میں سے سانپ کی طرح بل کھاتی سڑک پر کوئی ایک گھنٹہ چل کر طالبان نے گاڑی روک دی۔ وجہ دریافت کی تو ایک نے بتایا کہ وہ ’ہم سے بھی جہاد کرانا چاہتے ہیں‘۔ طالبان نے بھاری مشین گن اور راکٹ لانچر گاڑی سے اتارے تو حیرت کے ساتھ تشویش بھی ہوئی۔ تاہم یہ تیاری طالبان اپنی صلاحیت دکھانے کے لیے کر رہے تھے۔ دو راکٹوں کے علاوہ صحافیوں کے کیمروں کے لیے بھاری مشین گن جیسے مقامی زبان میں ’دشکا‘ کہتے تھے سے فائر بھی کیا گیا۔ میں نے بھی اپنی صلاحیت کا اندازہ لگانے کے لیے چند فائر کیے۔
اگلا سٹاپ نماز ظہر کے لیے ایک ندی کنارے تھا۔ نماز باجماعت ادا کی جانی تھی اور نہ پڑھنے کی گنجائش نہیں تھی۔ برف جیسے ٹھنڈے پانی سے وضو ہوا اور ذوالفقار کے پیچھے سب نے دو رکعت سفرانہ ادا کی۔ امام نے سلام پھیرتے ہوئے ابر آلود آسمان پر نظر دوڑاتے ہوئے گڑ گڑ کی آواز کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی جاسوس طیارہ ہے۔ سفر جب دوبارہ شروع ہوا تو طالبان نے ایک ایسی کیسٹ ٹیپ میں لگائی جو بقول ان کے ان کی گاڑی کو امریکی جاسوسی طیاروں کی نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے۔ کیسٹ میں صرف شور بھرا تھا جو گاڑی کی چھت پر لگے ایک چھوٹے سے سپیکر سے نکلنے لگا۔ ہماری درخواست پر اس کرخت شور کو طالبان نے بند کیا اور جہاد کی حمایت اور کفار کی نفرت پر مبنی موسیقی کے بغیر گیت بجانا شروع کر دیے۔ میرعلی سے روانہ ہونے کے تقریبا تین گھنٹے بعد ہم جنوبی وزیرستان میں کوٹ کلے پہنچے۔ یہ پاکستانی فوج کی بمباری والے مقام سے قریب ترین گاؤں تھا۔ چند درجن اونچے قلعہ نما کچے مکانات کے درمیان ایک پکی عمارت گاوں کی مرکزی مسجد تھی۔ (یہ پاکستانی طالبان کے ساتھ گزارے ایک دن کی پہلی قسط ہے جو ابھی جاری ہے) |
اسی بارے میں وزیرستان میں طالبان کا ’انصاف‘19 September, 2006 | پاکستان طالبان کمانڈر کے ساتھ ایک سفر21 October, 2006 | پاکستان وزیرستان میں طالبان کا دفتر بند01 October, 2006 | پاکستان ’طالبان کوئی ٹیکس نہیں لیتے‘11 December, 2006 | پاکستان پاکستان زیادہ غیرمحفوظ: طالبان14 December, 2006 | پاکستان وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | پاکستان طالبان کے حامی کے گھر پر حملہ19 January, 2007 | پاکستان وزیرستان: طالبان دفتر کھولیں گے 14 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||