BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 August, 2004, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان طرز کی تنظیم اختلاف کا شکار

قبائلی
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی باڑہ تحصیل میں طالبان طرز کی امر بالمعروف ونہ عن المنکر نامی تنظیم شریعت کے بزور نافذ پر اختلافات کا شکار ہو کر دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔

یہ تنظیم گزشتہ دس ماہ سے فعال تھی لیکن مقامی صحافیوں پر پابندی کی وجہ سے دنیا سے قدرے پوشیدہ رہی۔

خیبر ایجنسی کی باڑہ تحصیل میں ایک مدرسے کے کھلے میدان میں بر قمبرخیل قبیلے کے مسلح بڑے بوڑھے آج کل گول دائرے کی شکل میں روزانہ بیٹھے جرگوں میں سوچ بچار کرتے نظر آتے ہیں۔

اِنہیں قبائلیوں نے گذشتہ برس رمضان میں طالبان طرز کی امر بالمعروف ونہ عن المنکر نامی ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ جس کے اہم مقاصد میں علاقائی امن و امان کی بہتری اور اسلامی طرز زندگی کو فروغ دینا تھا۔

لیکن جلد ہی اس نے اپنا رنگ دیکھانا شروع کر دیا۔ مسجدوں میں ریکارڈ رکھے جانے لگے۔ نماز کے لیے نہ آنے والوں کو جرمانے اور قید جیسی سزائیں بھگتنا پڑیں۔ ٹوپی نہ پہنے، داڑھی نے رکھنے والے کا بھی حشر یہی ہونے لگا۔

موسیقی پر پابندی لگا دی گئی اور تنظیم نے اپنا ایف ایم ریڈیو سٹیشن شروع کر دیا جو اس کا پیغام دور دور تک پہنچانے لگا۔ اب یہ سٹیشن حکومت نے بند کر دیا ہے اور تنظیم دو واضع دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔

اس تنظیم کے قیام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مقامی سردار ملک وارث خان نے کہا کہ یہ برقمبر خیل قبیلے کی تین شاخوں شیخ مل خیل، درےپلارے اور ونڈگرے نے مشترکہ طور پر امن عامہ بہتر کرنے کی غرض سے قائم کی تھی۔

سعودی عرب سے لوٹے پینتیس سالہ حاجی نام دار کو اس کا امیر منتخب کیا گیا اور ایک منشور تشکیل دیا گیا۔

منشور میں واضع کیا گیا تھا کہ یہ تنظیم لوگوں کے عقائد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گی۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد پیروں فقیروں پر پابندی لگانے کی باتیں کرنے لگے اور زبردستی لوگوں کو نماز کی ترغیب دینے لگے۔

ملک وارث سے پوچھا کہ یہ تنظیم افغانستان کی طالبان تنظیم سے کتنی مماثلت رکھتی تھی تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کی نہیں تھی لیکن طریقہ کار اسی قسم کا ہونے لگا تھا۔

تنظیم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ امن عامہ کے علاوہ تنظیم نے نماز نہ پڑھنے، ٹوپی نہ پہنے اور داڑھی نہ رکھنے پر جرمانے اور سزائیں دینا شروع کر دیں۔ مذہب کے زبردستی نفاذ پر تنظیم میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں۔

ایک باغی دھڑا اب تنظیم کے موجودہ امیر حاجی نام دار پر تشدد کی راہ اپنانے اور منشور سے تجاوز کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ باغی دھڑے کے سربراہ حاجی ظریف کا امیر حاجی نام دار کے بارے میں کہنا تھا کہ ’اس نے ایسے کام شروع کر دیے جوکہ قوم اور عوام پر ظلم تھا۔ انہیں جانوروں کی طرح لاٹھیوں سے مارا جانے لگا۔ عمر رسیدہ افراد اور علما کی بے عزتی شروع کر دی۔ اس نے مذہبی دہشت گردی شروع کر دی تھی۔

مخالفین نے بتایا کہ تنظیم نے گوانتنامو بے اور ابو غریب نامی نجی قید خانے بھی بنا رکھے تھے جن میں لوگوں پر تشدد کیا جاتا تھا۔ ایک قید خانے کا دورہ کیا تو وہ ایک حجرے میں بنایا گیا تھا۔

جرگے میں موجود چند نوجوانوں سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا انہیں ایسی تنظیم کی ضرورت تھی؟ تو ان کا ملا جلا جواب ملا۔ ایک نے کہا کہ تنظیم اچھی تھی نماز روزے کی پابندی کرواتی تھی لیکن بعد میں اس نے اپنی حد پار کر لی۔ ایک دوسرے نوجوان خان محمد کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی تنظیم کی ضرورت نہیں۔

اس تنازعہ میں فریقِ دوم کا موقف جاننے کے لیے کھجوری کے علاقے میں مسجد عربیہ اسماعیل آباد پہنچے تو باہر کئی گاڑیوں پر طالبان طرز کے سفید پرچم آویزاں تھے۔ تنظیم نے متنازعہ امیر تو تیراہ میں مورچے سنبھالنے کی وجہ سے میسر نہ تھے لہذا تنظیم کے دیگر رہنماؤں سے بات چیت کی۔

قطر کی امداد سے تعمیر اس مسجد کے باہر کھلے میدان میں بیٹھے حاجی شمشیر آفریدی نے ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات کی تردید کی۔

وجہ اختلاف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اصلاحی تھی اس لیے اس نے شراب، جوئے اور دیگر جرائم پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ لیکن بقول ان کے اس کی اب مخالفت کرنے والے تمام جرائم پیشہ لوگ ہی ہیں۔

انہوں نے لوگوں سے زبردستی نماز پڑھانے جیسے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک شخص اپنے بھائی بیٹے سے زبردستی نماز نہیں پڑھوا سکتا تو دوسروں سے کیسے یہ کروا سکے گا۔

طالبان سے متاثر تنظیم چلانے کے الزام کو بھی انہوں نے پروپیگینڈا قرار دیا۔ ’ہم نے آغاز میں واضع کر دیا تھا کہ طالبان یا القاعدہ جیسی تنظیموں پر پابندی ہوگی۔

اس تنظیم کے قیام کے ایک سال کے دوران حکومت نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ مقامی انتطامیہ نے ہمیں تحفظ فراہم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ حالات ٹھیک نہیں لہذا باڑے نہ جانے کا مشورہ دیا۔

حکومت کے کردار کے بارے میں ایک قبائلی غالب آفریدی کا کہنا تھا کہ اس جیسی تنظیموں سے حکومت ان کی رہی سہی آزادی بھی صلب کرنا چاہتی ہے۔ ’حکومت دنیا کو بتا رہی ہے کہ وہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہے لیکن یہاں وہ ان تنظیموں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔‘

تنظیم کے ایک رہنما قاری عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت سے ان کا کوئی کام پوشیدہ نہیں رہا۔ انہیں ہماری پل پل کی خبر ملتی رہی ہے اسی لیے انہوں نے ہم پر کبھی اعتراض نہیں کیا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ تنظیم امن عامہ کی بہتری کے لیے قائم کی گئی تھی لہذا اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

تنظیم کی تقسیم سے باڑہ میں حالات کافی کشیدہ ہیں۔ تصادم پہلے بھی ہوچکے ہیں اور فریقین اب بھی ایک دوسرے کے خلاف مورچے سنبھالے بیٹھے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد