اساتذہ کو طالبان کی دھمکیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کےشمالی صوبہ زابل میں طالبان اسلامی ملیشیا نے مقامی سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے سے سکول جانا چھوڑ دیں ورنہ انہیں سخت سزا دی جائی گی۔ زابل میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج سیف اللہ نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان باغیوں کی جانب سےشاہ جوئی ڈسٹرکٹ کےعلاقے میں خطوط تقسیم کئے گئے ہیں جس میں اساتذہ کرام کودھمکیاں دی گئی ہیں کہ اگلے ہفتے یعنی بائیس مئی سے سکول آنا بند کردیں ورنہ انہیں موت کی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عظمت ہائی سکول شاہ جوئی میں تو طالبان خود گئے اور وہاں اساتذہ کو طلباء کے سامنے ڈرایا دھمکایا ور انہیں کہا کہ اگلے ہفتے سے وہ سکول نہ آئیں ورنہ انہیں خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا- ایجوکیشن افسر کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزرات تعلیم کابل کو طالبان کی دھمکیوں سے آگاہ کردیا ہے تاہم حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے- انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شاہ جوئی کے علاقے میں حالات خراب ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ان دھمکی آمیز خطوط کی وجہ سے اساتذہ اور طلباء میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے- صوبہ زابل میں ایک سوتریپن ہائی اور پرائمری سکول ہیں جن میں چھتیس ہزار طلباء وطالبات پڑھتے ہیں۔ سیف اللہ نے مزید بتایا کہ ساٹھ مقامی مشیران پر مشتمل ایک کمیٹی مسئلہ کے حل کے سلسلے میں کوششیں کررہی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ طالبان ملیشیا کسی کی بات نہیں مانیں گے- مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے ان دھمکی آمیز خطوط کی وجہ سے سکولوں میں اساتذہ اور طالبان کی تعداد میں روز بروز کمی واقع ہورہی ہے- چند روز قبل زابل کے گورنر نے علاقے میں اس قسم کی مشکلات کا ذکر کیا تھا- واضح رہے کہ اسلامی ملیشیا نے کچھ عرصہ پہلے اسی علاقے سے چند اساتذہ کو اغواء کیا تھا تاہم انہیں بعد میں رہا کردیا گیا- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||