امریکی بمباری سے28 طالبان ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افغانستان میں امریکی فوج نے پاکستان کی سرحد کے قریب طالبان کے ایک اڈے پر شدید بمباری کی ہے جس سے کم سے کم اٹھائیس مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین افغان فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ افغانستان کے جنوبی سرحدی شہر سپین بولدک کےمنتظم حاجی فضل دین آغا نے کہا ہے ارغسان اور سپین بولدک کی سرحد کے قریب ایک سو سے زائد مشتبہ طالبان موجود تھے جو مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان مشتبہ طالبان کی قیادت ارغسان کے رہائشی قاری لعل محمد کر رہے تھے۔ گزشتہ روز انھوں نےافغان فوجیوں پر حملہ کیا تھا جس سے تین فوجی زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد اتحادی افواج نے افغان فوجیوں کی معاونت کے ساتھ اس علاقے پر شدید بمباری کی۔ حاجی فضل دین نے کہا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق اٹھائیس مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں اور ان کی لاشیں ادھر میدان جنگ میں پڑی ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی صحیح تعداد بعد میں ہی معلوم ہوسکے گی۔ انھوں نے کہا ہے کہ قاری لعل محمد اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔ دریں اثناء جنوبی افغانستان کے مختلف علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ بتائے گئے ہیں۔ پکتیکا قندھار اورزگان اور زابل کے علاقوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ ہلمند سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق افعان حکومت نے ایک کارروائی میں کچھ روز قبل بارہ کے قریب مشتبہ افراد گرفتار کیے تھے۔ اس وقت افغانستان میں لگ بھگ بیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جبکہ دو ہزار میرین جنوبی افغانستان میں ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں۔ اس بارے میں گزشتہ دنوں لوگوں کو غیر مسلح کرنے کی مہم بھی شروع کی گئی تھی جس میں کچھ اسلحہ تو ضرور برآمد ہوا تھا اور گرفتاریاں بھی ہوئی تھیں لیکن حالات بہتر ہونے کی بجائے ابتر ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز بیس موٹر سائیکلوں پر سوار مشتبہ طالبان نےامدادی سامان لے کر جانے والے افراد پر پکتیکا کے علاقہ وازہ خوا میں حملہ کردیا جس سے دو افغان فوجی زخمی ہو گئے تھے یہ لڑائی تیس منٹ تک جاری رہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||