پاکستان طالبان کا مددگار ثابت ہوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کمیشن نے کہا ہے کہ پاکستانی رویہ اسامہ بن لادن کی مدد میں طالبان کے لیے حوصلہ افزاء ثابت ہوا۔ کمیشن گیارہ ستمبر کو نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حملوں اور اس کے بعد امریکی انتظامیہ کے اقدامات کی تحقیقات کر نے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اس کے رپورٹ اسی ماہ اٹھائیس تاریخ کو جاری کی جانے والی ہے۔ کمیشن نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کی ثابق طالبان انتظامیہ کی جانب سے اسامہ بن لادن کے مدد کرنے کے لیے پاکستانی حکومت کا رویہ حوصلہ افزا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ان چند ملکوں میں سے ایک تھا جن کے طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات تھے اور پاکستانی حکومت کا رویہ ایسا تھا جس کی وجہ سے افغانستان القاعدہ کی قیادت کے لیے ایک جنت بن گیا۔ اس رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس پاکستانکو بھی مدد ملی کیونکہ انڈیا سے کشمیر کی لڑائی میں حصہ لینے والے کچھ جنگجووں نے ان کیمپوں میں تربیت حاصل کی تھی جو اسامہ بن لادن نے قائم کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||