BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 December, 2006, 19:46 GMT 00:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان کوئی ٹیکس نہیں لیتے‘

وزیرستان میں کوئی متوازی انتظامیہ نہیں اور نہ ہی وہاں پر عوامی فیصلے کوئی اور کرتا ہے: حکومت
حکومت پاکستان نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں طالبان کی عملداری اور ٹیکس وصول کرنے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں نہ تو طالبان کے دفاتر ہیں اور نہ ہی وہاں سے افغانستان میں مداخلت ہورہی ہے۔

پیر کو پشاور میں صحافیوں کو بریفینگ دیتے ہوئے قبائلی علاقوں کے لیے سکیورٹی امور کے سیکریٹری ارباب محمد عارف نے کہا کہ وزیرستان میں کوئی متوازی انتظامیہ نہیں اور نہ ہی وہاں پر عوامی فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔

انہوں نے ان الزامات کی بھی سختی سے تردید کی کہ قبائلی علاقوں میں کوئی عسکری تربیت گاہیں ہیں اور یہ کہ وزیرستان میں مقامی طالبان نے امن معاہدے کے بعد وہاں پر اپنے دفاتر قائم کئے ہوئے ہیں۔

سیکرٹری فاٹا نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ امن معاہدے کے بعد افغانستان میں اتحادی افواج پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ خورشید قصوری کے دورۂ افغانستان میں صرف امن جرگے پر بات چیت ہوئی ہے افغان حکومت نے کسی قسم کے الزامات پیش نہیں کئے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی شواہد فراہم کئے گئے ہیں۔

ارباب محمد عارف نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں ہونے والے امن معاہدے کے نفاذ کےلئے قائم کمیٹی کام کررہی ہے تاہم اس پر عمل درآمد میں وقت ضرور لگے گا جبکہ معاہدے میں شامل نکات جن میں غیر ملکیوں کو نکالنے وغیرہ پر عمل درامد ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری فاٹا نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں کوئی امن معاہدہ نہیں ہورہا تھا بلکہ مقامی قبائل خود ہی حکومت کو تحریری طور پر علاقے میں امن وامان میں تعاون کی پیش کش کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے ضمنی انتخابات کےلئے پانچ امیداروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں اور وہاں پر الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق انتخابات دس جنوری کو ہونگے۔

اس موقع پر قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلوپمنٹ فاٹا ظفر حسین نے کہا کہ فاٹا کے اے ڈی پی کا کل حجم 6200 ملین رکھا گیا ہے جبکہ خوشحال پاکستان اور ممبران اسمبلی کے ذریعے سے ترقیاتی سکیمیں اس کے علاوہ ہیں جو کل ملکر نو ارب روپے تک بن جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے کےلئے یونسیف کی مدد سے ایک سروے شروع کرلیا گیا ہے جس میں ان علاقوں میں تعلیم و خواندگی ، بچوں کی دیکھ بھال ، آب نوشی اور نکاسی آب، لیبر اور صحت کی سہولیات کی دستیابی سے متعلق ڈیٹا اکھٹا کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
راکٹ ہم نے نہیں داغے: طالبان
11 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد