BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 September, 2006, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلیوں نےسکیورٹی سنبھال لی

وزیرستان
حالیہ امن معاہدے سے پہلے امن و امان کی ذمہ داری فوج کی تھی
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں مسلح قبائلیوں نے جن میں مقامی طالبان بھی شامل ہیں امن عامہ برقرار رکھنے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔

ادھر جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے قبائل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ دنوں حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا نتیجہ ہے۔

 آج پمفلٹ بھی تقسیم کیئے گئے اور دیواروں پر پوسٹر بھی لگائے گئے۔ ’اعلان مسرت‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے اس پیغام میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی نقاب پوش مشتبہ شخص کی اطلاع انہیں دی جائے اور اگر اس کا وقت نہ ہو تو وہ خود بھی ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ اشتہار میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ نقاب پوش مقامی طالبان نہیں بلکہ چور یا ڈاکو ہوسکتے ہیں

اس نئے انتظام کے تحت درپہ خیل، بورا خیل اور میران اقوام پر مشتمل تقریباً 80 مسلح قبائلی بازار میں جگہ جگہ تعینات ہوں گے تاکہ امن عامہ برقرار رکھا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں رزمک اڈے پر ایک دفتر بھی قائم کیا گیا ہے۔

ان قبائلیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام صرف اغوا، قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں کو روکنے کے لیئے اٹھایا گیا ہے۔

اس فیصلے سے آگاہ کرنے کی غرض سے شہر میں آج پمفلٹ بھی تقسیم کیئے گئے اور دیواروں پر پوسٹر بھی لگائے گئے۔ ’اعلان مسرت‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے اس پیغام میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی نقاب پوش مشتبہ شخص کی اطلاع انہیں دی جائے اور اگر اس کا وقت نہ ہو تو وہ خود بھی ان کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ اشتہار میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ نقاب پوش مقامی طالبان نہیں بلکہ چور یا ڈاکو ہوسکتے ہیں۔

اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں بھی مقامی قبائل نےاسی طرح کے اقدامات کیئے تھے ۔

تاہم آج کے اس تازہ فیصلے سے واضح نہیں کہ حکومت کی عمل داری کہاں تک برقرار رہے گی۔ پانچ ستمبر کو مقامی طالبان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں واضع طور پر کہا گیا ہے کہ علاقے میں عمل داری حکومت کی ہوگی۔

یہ واضح نہیں کہ مقامی قبائل نے یہ اقدام حکومت کی رضامندی سے لیا ہے یا نہیں۔ مقامی انتظامیہ سے اس سلسلے میں رابطے کی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی۔

ادھر جنوبی وزیرستان میں آج سہہ پہر نامعلوم افراد نے تعاقب کر کے ایک گاڑی میں جا رہے افراد پر تیارزہ کے مقام پر گولی چلا کر دو افراد کو ہلاک جبکہ تین کو زخمی کر دیا ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد شکئی کے ملک خانان کے رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔ ملک خانان اور ان لوگوں نے گزشتہ دنوں علاقے میں مبینہ طور پر موجود ازبک شدت پسندوں کو علاقہ بدر کرنے کی ایک ناکام مہم چلائی تھی۔ ملک خانان بھی اسی طرح کے ایک حملے میں زخمی ہوچکے ہیں۔

طالبان سے معاہدہ
میران شاہ میں زندگی معمول پر آ گئی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد