BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان میں طالبان کا دفتر بند

وزیرستان میں فوجی
قبائیلوں سرداروں کے ساتھ معاہدے کے بعد علاقے میں فوجیوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان کی جانب سے امن عامہ کی بہتری کے لیئے کھولے جانے والا دفتر اب بند کر دیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک بیان میں وضاحت کرتے ہوئے ایک سرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ اس دفتر کے بارے میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ یہ شاید مقامی قبائل کی جانب سے متوازی انتظامیہ قائم کرنے کی کوئی کوشش ہے جوکہ غلط ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’یہ سب خبریں غلط فہمی پر مبنی ہیں‘۔

ترجمان کے بقول یہ دفتر درحقیقت مقامی قبائل، مذہبی رہنماؤں اور انتظامیہ کے درمیان طے پانے والے حالیہ امن معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیئے ایک خصوصی انتظام کے تحت قائم کیا گیا تھا۔

حکومت نے شکایت کی کہ مقامی طالبان کی جانب سے اس وضاحت کے باوجود کہ اس کا مقصد متوازی انتظامیہ کا قیام نہیں اخبارات نے اس مسئلے کو زندہ رکھا۔ لہذا اس دفتر کے قیام سے منفی اثر کو ختم کرنے کے لیئے یہ اب بند کر دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس دفتر کی بندش سے یہ ایک مرتبہ پھر واضع ہوگیا ہے کہ مقامی قبائل امن معاہدے پر عمل درآمد میں مخلص اور پرعزم ہیں۔

اس نئے انتظام کے تحت درپہ خیل، بورا خیل اور میران اقوام پر مشتمل تقریباً اسی مسلح قبائلی بازار میں جگہ جگہ تعینات ہونے تھے تاکہ امن عامہ برقرار رکھا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں رزمک اڈے پر ایک دفتر بھی قائم کیا گیا ہے۔

ان قبائلیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام صرف اغوا، قتل اور ڈکیتی کی ورداتوں کو روکنے کے لیئے اٹھایا گیا تھا۔

اس فیصلے سے مقام آبادی کو آگاہ کرنے کی غرض سے میران شاہ میں پمفلٹ تقسیم ہوئے اور دیواروں پر پوسٹر بھی لگائے گئے تھے۔ ’اعلان مسرت‘ کے عنوان سے تقسیم ہونے والے اس پیغام میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی نقاب پوش مشتبہ شخص کی اطلاع انہیں دی جائے اور اگر اس کا وقت نہ ہو تو وہ خود بھی اس کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔

اسی طرح کا اقدام اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں بھی مقامی قبائل نے اٹھایا تھا اور حکومت نے تقریباً اسی طرح کی تردید بھی جاری کی تھی۔

اسی بارے میں
وزیرستان، زندگی کی چہل پہل
06 September, 2006 | پاکستان
’جاسوسی‘ کے شبہے میں قتل
28 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد