BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 September, 2006, 05:33 GMT 10:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر، نواز کے لیئے مزید انتظار

جنرل مشرف
جنرل مشرف کو ابھی صدر بش کا اعتماد حاصل ہے
پاکستان میں اس سال مارچ میں صدر بش کے پاکستان کے دورے کے بعد یہ تاثر روز بہ روز زور پکڑتا جا رہا تھا کہ امریکہ نے جنرل مشرف پر سے اپنی شفقت کا ہاتھ کھیچنا شروع کردیا ہے۔


اس دورے میں صدر بش نے جس طرح کھل کر جنرل مشرف کو جمہوریت کے فوائد پر لیکچر دیا تھا اس سے پاکستانی حزب اختلاف کے حوصلے کچھ بلند ہوئے تھے۔ بعض تجزیہ نگار یہ بھی کہنے لگے کہ اگر امریکہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی میں دوبارہ دلچسپی لینا شروع کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جنرل مشرف امریکہ کے اتنے ’فیورٹ‘ نہیں رہے جتنے چند سال پہلے تک تھے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

پاکستان میں اگر اپوزیشن بش حکومت سے یہ آس لگائے بیٹھی تھی کہ وہ جنرل مشرف کی امریکہ یاترا کے دوران ملک میں موجودہ جیسی تیسی جمہوریت کی بجائے اصل جمہوریت کی بحالی پر زور ڈالیں گے، تو ایسا بظاہر نہیں ہوا۔

مشرف امریکہ یاترا
 پاکستانی صدر کی اس امریکہ یاترا سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوا یہ واضح نہیں۔ البتہ جنرل مشرف اس دورے کو اپنی شخصی کامیابی کے لیئے استعمال کرنے میں خاصے کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی مشترکہ اخباری بریفنگ میں جس طرح صدرجارج بش نے بار بار پاکستان کے فوجی صدر کی تعریف کی اس سے فی الحال یہ تو واضح ہے کہ امریکہ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کو ہی مضبوط دیکھنا چاہتا ہے۔

لیکن کیوں؟

امریکی نقطۂ نگاہ سے پاکستان میں اس کا اولین مفاد دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کا ساتھ ہے۔ اور امریکہ کی نظر میں اس کام میں فوج کے سربراہ صدر مشرف سے موزوں کوئی اور نہیں۔

امریکیوں نے دو دو بار نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور خوب جانتے ہیں کہ پاکستان میں عوامی ووٹ لے کر وزیرِاعظم بننے والےرہنماؤں کے پاس اہم ترین فیصلے کرنے کے کتنے اختیارات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر بش کی ٹیم میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو جیسے رہنماؤں کو واپس اقتدار میں آتا دیکھنے کے لیئے کوئی بے چینی نہیں پائی جاتی۔

 واشنگٹن میں پاکستان کا تجربہ رکھنے والے کچھ امریکی سفارتکار خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ کی یہ کوئی زیادہ دانشمندی نہیں کہ وہ آنکھیں بند کرکے اپنی تمام تر حمایت فردِ واحد پر لگا دے۔

امریکی حکام یہ بھی جانتے ہیں کہ منتخب سربراہانِ مملکت کے برعکس، جنرل مشرف کو اپنے فیصلوں کے لیئے کسی کی منظوری کی ضرورت نہیں۔ امریکی اہلکار جب جنرل مشرف سے مذاکرات کر رہے ہوتے ہیں تو وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں یہی شخص اس وقت طاقت کا محور ہے: کور کمانڈرز ان کے ساتھ ہیں، آئی ایس آئی ان کے ماتحت ہے، حکومت ہو، عدلیہ یا پھر میڈیا، بظاہر کوئی بھی جنرل مشرف کے کنٹرول سے باہر نہیں۔

واشنگٹن میں پاکستان کا تجربہ رکھنے والے کچھ امریکی سفارتکار خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ کی یہ کوئی زیادہ دانشمندی نہیں کہ وہ آنکھیں بند کرکے اپنی تمام تر حمایت فردِ واحد پر لگا دے۔ ان کے نزدیک خطے میں امریکی مفادات کے مکمل فروغ کے لیئے ضروری ہے کہ جنرل مشرف پر کچھ نہ کچھ دباؤ برقرار رکھا جائے۔ اس کے لیئے، ان کے نزدیک، ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان میں اقتدار کی خواہاں دیگر سیاسی اور فوجی قوتوں کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے رکھے اور وقتاً فوقتاً جمہورت اور انسانی حقوق کی بحالی کا ذکر چھیڑ دیا جائے۔

یہ واضح ہے کہ موجودہ امریکی حکومت میں اس نقطۂ نظر کے حامل طبقے کی کم سُنی جاتی ہے۔ صدر بش پر جو لابی اثر رکھتی ہے وہ جنرل مشرف کو مضبوط کرکے خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ چاہتی ہے۔

بہرحال پاکستانی صدر کی اس امریکہ یاترا سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوا یہ واضع نہیں۔ البتہ جنرل مشرف اس دورے کو اپنی شخصی کامیابی کے لیئے استعمال کرنے میں خاصے کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ رہا سوال پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کا، تو اس کے لیئے لگتا ہے کہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف جیسے سیاسی رہنماؤں کو مذید انتظار کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں
جنرل مشرف کا میڈیکل چیک اپ
24 September, 2006 | پاکستان
مشرف کتاب، فروخت ذرا کم کم
25 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد