BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 04:07 GMT 09:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک، افغانستان اپنے اپنے موقف پر قائم
پاک افغان سرحد چمن
’پاکستان جب فیصلے پر عمل درآمد کرے گا سرحدوں پر مشکلات بھی پیش آ سکتی ہیں‘
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور افغاسنتان کے صدر حامد کرزئی نے جمعرات کو کابل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطابت کرتے ہوئے افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے منصوبے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔


وزیر اعظم عزیز نے کہا کہ مخصوص مقامات پر باڑ لگانے کا مقصد دونوں طرف سے ناپسندیدہ عناصر کی آمد و رفت کو روکنا ہے۔ صدر کرزئی نے اس منصوبے کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے دونوں اقوام تقسیم ہو جائیں گی۔

پاک افغان رہنماؤں کی اس ملاقات کے بارے میں افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دورہ کامیاب نہیں ہو سکا اور اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

عمل درآمد مشکل
 ’صرف افغان حکومت نہیں بلکہ سرحد کے آس پاس رہنے والے قبائل بھی اس کی مخالفت کریں گے اور شاید اس فیصلے کے اوپر عمل درآمد مشکل ہوگا
یوسف زئی
انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت ہوتی رہی تو ان کے رابطہ رہیں گے لیکن لگتا ہے کہ یہ مسئلہ آسان نہیں ہے۔

یوسف زئی نے ایک کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ باڑ لگانے یا بارودی سرنگیں بچھانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی حکومت، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی تسلی کے لیے یہ اقدام کر رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغان حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہے اور شاید امریکہ سمیت اس کے مغرب میں حامی ممالک بھی چاہتے ہیں کہ باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی بجائے پاکستان اپنی حدود میں طالبان کے خلاف اقدامات کرے۔

انہوں نے کہا کہ افغاسنتان کی حکومت اگر اپنے موقف پر قائم رہتی اور پاکستان بھی باڑ لگانے پر اصرار کرتا ہے تو اختلافت مزید بڑھیں گے، باڑ لگاتے وقت سرحدی علاقوں میں مشکلات پیدا ہوں گی اور اس کا اظہار بھی ہو گا۔ ’صرف افغان حکومت نہیں بلکہ سرحد کے آس پاس رہنے والے قبائل بھی اس کی مخالفت کریں گے اور شاید اس فیصلے کے اوپر عمل درآمد مشکل ہوگا‘۔

ایک سوال کے جواب میں کہ جب افغان حکومت کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ کابل کے ایک مخصوص علاقے تک محدود ہے تو کیا وہ پاکستان پر اس معاملے میں دباؤ ڈالنے میں حق بجانب ہے یوسف زئی نے کہا کہ ’پاکستان پر اس طرح کی الزام تراشی اس بات کا اظہار ہے کہ افغان حکومت خود بے بس ہے اور کچھ کر نہیں پا رہی اور اس کا انحصار غیر ملکی فوجوں کی امداد کے اوپر ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ بالآخر افغان حکومت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہیں اپنی فوج بنانی ہوگی اور وسائل میں اضافہ کرنا پڑے گا پھر ان کی مشکلات آسان ہوں گی۔

اسی بارے میں
قصوری کابل کے دورے پر
07 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد