پاک، افغانستان اپنے اپنے موقف پر قائم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور افغاسنتان کے صدر حامد کرزئی نے جمعرات کو کابل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطابت کرتے ہوئے افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے منصوبے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم عزیز نے کہا کہ مخصوص مقامات پر باڑ لگانے کا مقصد دونوں طرف سے ناپسندیدہ عناصر کی آمد و رفت کو روکنا ہے۔ صدر کرزئی نے اس منصوبے کی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے دونوں اقوام تقسیم ہو جائیں گی۔ پاک افغان رہنماؤں کی اس ملاقات کے بارے میں افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ یہ دورہ کامیاب نہیں ہو سکا اور اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
یوسف زئی نے ایک کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ باڑ لگانے یا بارودی سرنگیں بچھانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی حکومت، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی تسلی کے لیے یہ اقدام کر رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغان حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہے اور شاید امریکہ سمیت اس کے مغرب میں حامی ممالک بھی چاہتے ہیں کہ باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی بجائے پاکستان اپنی حدود میں طالبان کے خلاف اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغاسنتان کی حکومت اگر اپنے موقف پر قائم رہتی اور پاکستان بھی باڑ لگانے پر اصرار کرتا ہے تو اختلافت مزید بڑھیں گے، باڑ لگاتے وقت سرحدی علاقوں میں مشکلات پیدا ہوں گی اور اس کا اظہار بھی ہو گا۔ ’صرف افغان حکومت نہیں بلکہ سرحد کے آس پاس رہنے والے قبائل بھی اس کی مخالفت کریں گے اور شاید اس فیصلے کے اوپر عمل درآمد مشکل ہوگا‘۔ ایک سوال کے جواب میں کہ جب افغان حکومت کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ کابل کے ایک مخصوص علاقے تک محدود ہے تو کیا وہ پاکستان پر اس معاملے میں دباؤ ڈالنے میں حق بجانب ہے یوسف زئی نے کہا کہ ’پاکستان پر اس طرح کی الزام تراشی اس بات کا اظہار ہے کہ افغان حکومت خود بے بس ہے اور کچھ کر نہیں پا رہی اور اس کا انحصار غیر ملکی فوجوں کی امداد کے اوپر ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر افغان حکومت کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہیں اپنی فوج بنانی ہوگی اور وسائل میں اضافہ کرنا پڑے گا پھر ان کی مشکلات آسان ہوں گی۔ | اسی بارے میں ’باڑ،بارودی سرنگیں لگائیں گے‘03 January, 2007 | پاکستان پاکستانی منصوبے پر کرزئی کی تنقید 28 December, 2006 | آس پاس باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان پاک افغان سرحد: باڑ اور بارودی سرنگیں26 December, 2006 | پاکستان قصوری کابل کے دورے پر07 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||