پاکستانی منصوبے پر کرزئی کی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے کہ پاک افغان سرحد کے بیشتر مقامات پر باڑ لگائی جائے گی اور بارودی سرنگیں بچھائی جائیں گی۔ صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے قبائلی خاندان تقسیم ہو جائیں گے۔ پشتون قبائل پاک افغان سرحد کے دونوں جانب بٹے ہوئے ہیں۔ افغانستان ہمیشہ سے پاکستان پر یہ الزام لگاتا آیا ہے کہ طالبان پاکستانی سرحد عبور کرکے افغانستان میں پرتشدد کارروائیاں کرنے آتے ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کے بقول قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے مدارس ختم کرنا، باڑ لگانے یا بارودی سرنگیں بچھانے سے زیادہ مفید ثابت ہو گا۔ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’سرحد پر باڑ لگانے یا بارودی سرنگیں بچھانے سے ناصرف لوگوں کی نقل حرکت متاثر ہو گی بلکہ پاک افغان تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے‘۔ اقوامِ متحدہ نے بھی یہ کہتے ہوئے پاکستانی منصوبے پر تنقید کی ہے کہ اس سے عام شہریوں کی اموات میں اضافہ ہو جائے گا۔ منگل کو پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا تھا کہ پاک افغان سرحد پر موجود باڑ اور بارودی سرنگیں طالبان کو سرحد عبور کرکے نیٹو فوج کے ساتھ لڑنے سے باز رکھیں گی۔ حکام کے مطابق پاکستان اپنے سرحدی علاقے میں باڑ لگائے گا اور بارودی سرنگیں بچھائے گا اور اس مقصد کے لیے اسے افغانستان سے معاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی دراندازی روکنے کے لیے مزید فوجی چوکیاں بھی بنائی جائیں گی۔ | اسی بارے میں بارودی سرنگوں کی تجویز پر تنقید28 December, 2006 | پاکستان باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان سرحد پر باڑ اور بارودی سرنگیں26 December, 2006 | پاکستان ’دراندازی کا ذمہ دار پاکستان ہے‘17 May, 2006 | آس پاس ’وزیرستان معاہدے پر تحفظات ہیں‘06 October, 2006 | آس پاس افغان صورتحال پر کرزئی دکھی11 December, 2006 | آس پاس ’پاکستان ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے‘14 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||