بارودی سرنگوں کی تجویز پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں اقوام متحدہ کے حکام نے پاکستان کے اس اعلان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے کہ وہ پاک افغان مشترکہ سرحد پر باڑے لگائے گا اور بارودی سرنگیں بچھائے گا۔ عالمی ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کی جان کے لیے شدید خطرہ پیدا ہوجائے گا اور یہ کہ علاقے میں پہلے ہی بہت زیادہ گولہ بارود موجود ہے۔ اقوام متحدہ سے وابستہ ایک اعلی اہلکار نے کہا کہ دنیا بھر میں حقوق انسانی کے لیے سرگرم کارکن بارودی سرنگوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ منگل کے روز پاکستانی دفترخارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ ان اقدامات سے افغانستان جاکر نیٹو افواج پر حملوں کرنے والے مزاحمت کاروں کو روکنے میں مدد ملے گی۔ افغان حکومت نے اس تجویز کو فوری طور پر یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اس سے شدت پسندی کو نہیں روکا جا سکتا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تین عشروں سے جاری کشت و خون کے دوران افغانستان میں بہت زیادہ بارودی سرنگیں بچھائی گئیں جن سے ہزاروں افغان شہری ہلاک یا معذور ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان پاک افغان سرحد: باڑ اور بارودی سرنگیں26 December, 2006 | پاکستان بارودی سرنگیں بچھانے کی مخالفت26 December, 2006 | پاکستان بارودی سرنگوں سے68 ہلاک 23 November, 2005 | پاکستان سپین بولدک: پانچ فوجی ہلاک24 May, 2005 | پاکستان وانا میں چار طالب علم ہلاک01 October, 2004 | پاکستان ’بارودی سرنگیں: خاتمہ ابھی نہیں‘28 February, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||