’بارودی سرنگیں: خاتمہ ابھی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا کہ وہ بارودی سرنگوں کی خاتمے کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔ تاہم امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ ایسی بارودی سرنگیں بنائے گا جس سے انسانی جانوں کا ضیاع کم سے کم ہو۔
اس بات کا اعلان امریکہ کے معاون وزیر خارجہ لنکن بلومفیلڈ نے جمعہ کے روز بارودی سرنگوں کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بارودی سرنگوں کو تلاش کرنا ممکن بنائے گا اور ایسی بارودی سرنگوں کو ختم کر دے گا جو طے شدہ مدت کے بعد تباہ نہیں ہو سکتیں۔ بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی معاہدے پر ایک سو پچاس ممالک دستخط کر چکے ہیں۔ دنیا بھر میں سالانہ دس ہزار افراد بارودی سرنگوں کا شکار ہوتے ہیں۔ امریکہ کی بارودی سرنگوں کے بارے میں پالیسی پر مِلا جُلا رد عمل دیکھنے میں آیا۔ ہالو ٹرسٹ چیرٹی نامی تنظیم کا کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لئے امدادی رقم میں اضافے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے زندگیاں بچانے میں مدد ملے گی۔ لیکن بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لئے کام کرنے والے بہت سے کارکنوں نے کہا کہ امریکہ کا ’سمارٹ‘ بارودی سرنگیں استعمال جاری رکھنے پر اصرار بین الاقوامی معاہدے کی اہمیت کم کرتا ہے۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر پیٹرک لیہی نے امریکی پالیسی کو ’انتہائی مایوس کن پسپائی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے دیگر ممالک کو بارودی سرنگیں استعمال کرنے کی شہ ملے گی۔ لنکن بلومفیلڈ نے کہا کہ خود بخود تباہ نہ ہونے والی بارودی سرنگوں کے خاتمے کا کام سن دو ہزار چھ میں شروع ہوگا اور چار سال میں مکمل ہوگا۔ بُش انتظامیہ کے منصوبے کے مطابق بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لئے امدادی رقم میں پچاس فیصد اضافہ کیا جائے گا جو سات کروڑ ڈالر ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جنوبی اور شمالی کوریا کی سرحد پر بارودی سرنگوں کو ابھی نہیں ہٹایا جائے گا اور نہ ہی مستقبل میں بارودی سرنگوں کی تیاری کی مکمل بندش کا اعلان کیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکہ کے سابق صدر بِل کلنٹن بارودی سرنگوں کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے حق میں تھےاور انہوں نے پینٹاگون کو متبادل ہتھیار کے استعمال پر غور کرنے کے لئے کہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||